خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 6

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء یورپین اصطلاح میں ان کو کور ٹیر (COURTIER) کہا جاتا ہے اور نہ ہماری زبان میں ان کو مصاحب کہا جاتا ہے۔گویا وہ جن کو ملنے کا کم موقع ملتا ہے اُن کو تو مصاحب کہا جاتا ہے مگر جنہیں اکثر آنے جانے کا موقع ملتا ہے انہیں مصاحب نہیں کہا جاتا۔کیونکہ مصاحب میں صرف اسی بات کا پایا جانا ضروری نہیں کہ وہ اپنے آقا کے پاس ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایسی صورت میں پاس ہو کہ اُس کے نقش کو قبول کر لے۔پس مصاحبت آقا سے اشتراک چاہتی ہے ایسا اشتراک جو عقائد میں بھی ہو، اعمال میں بھی ہو اور اخلاق میں بھی ہو۔جب تک عقائد اور اعمال اور اخلاق میں یہ اشتراک پیدا نہ ہو اُس وقت تک صرف پاس بیٹھ رہنے سے مصاحبت کا شرف حاصل نہیں ہو سکتا۔چنانچہ جہاں یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے والوں میں سے ہزاروں ایسے تھے جو صحابی کہلائے ، وہاں یہ بھی درست ہے کہ امت محمدیہ میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں کہ گو انہوں نے جسمانی طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا مگر صحابیت کا مقام اُنہوں نے حاصل کر لیا کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں ایسے گداز ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں ایسے جوش اور اخلاص کے ساتھ بڑھے کہ زمانہ کے بعد کے باوجود انہوں نے وہ مقام حاصل کر لیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے حاصل کیا تھا۔فرق یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں صرف ابوبکر، عمر ، عثمان اور علی ہی صحابی نہیں کہلائے بلکہ ہر وہ شخص جو اپنے اندر ذرا بھی اخلاص اور محبت رکھتا تھا صحابی کہلانے کا مستحق بن گیا لیکن بعد میں آنے والوں کو اس غرض کے لئے بہت بڑی جد و جہد اور قربانی کرنی پڑی۔چنانچہ دیکھ لو بعض ایسے لوگ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں صحابی کہلائے جو صرف اتنا بیان کرتے ہیں کہ ہم چھوٹے بچے تھے کہ ہماری ماں ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اُٹھا کر لے گئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے منہ پر پانی کی گلی کی۔اس کے مقابلہ میں وہ شخص جس نے تلواروں کے سایہ کے نیچے شہادت کا مرتبہ حاصل کیا اُسے بھی ہم صحابی ہی کہتے ہیں حالانکہ ایک وہ تھا جس نے پانی کی گلی کا مزہ چکھا اور دوسرا وہ تھا جس نے تلوار کی دھار کا مزہ چکھا لیکن باوجود اس کے یہ بھی صحابی کہلایا اور وہ بھی صحابی کہلایا۔تو رؤیت کی وجہ سے