خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 183

خطابات شوری جلد سوم ۱۸۳ ماورت ۱۹۴۶ء تیسرا دن احباب جماعت اور امراء کو نہایت قیمتی نصائح مجلس مشاورت کے تیسرے روز ۲۱۔اپریل ۱۹۴۶ء کو نظارت علیاء کی طرف سے یہ سوال زیر بحث آیا کہ مجلس عاملہ کے زائد ممبر مقرر کرنے کا اختیار امراء جماعت کو حاصل ہے یا وہ بھی مقامی جماعت کے ذریعہ منتخب کئے جائیں گے۔سب کمیٹی نے یہ رائے قائم کی کہ "مجلس عاملہ کے زائد ممبر مقامی جماعت کے انتخاب سے ہونے چاہئیں ، بحث کے بعد نمائندگان کی اکثریت نے یہ سفارش کی کہ زائد ممبر منتخب کئے جائیں تاہم یہ انتخاب صرف مجلس عاملہ کرے۔رائے شماری کے بعد حضور نے احباب جماعت اور امراء دونوں کو اپنی بیش قیمت نصائح سے نوازا۔آپ نے فرمایا: - سر درد کی وجہ سے میں اس وقت زیادہ بات نہیں کر سکتا اسی لئے میں نے ابھی سر درد کی دوا کھائی ہے تا کہ میں اپنے خیالات کا کچھ نہ کچھ اظہار کر سکوں۔میری طبیعت دراصل کل سے خراب ہے۔کل مجھے بخار بھی رہا اور سر میں درد بھی ہوتا رہا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آندھی چلے تو وہ میرے اندر انفلوائنزا کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔آندھی کی وجہ سے گردوغبار گلے اور ناک میں خراش پیدا کر دیتا ہے اور چونکہ میرے گلے اور ناک میں دیر سے خرابی ہے اس لئے گردو غبار کی وجہ سے پرانی بیماری میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور بند نزلہ کی کیفیت ہو کر سر درد شروع ہو جاتا ہے اور بخار بھی ہو جاتا ہے۔بہر حال وہ مسئلہ جو اس وقت در پیش ہے چونکہ اپنے اندر بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے تکلیف کے باوجود جماعت کی ہدایت اور راہ نمائی کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کہنا چاہئے۔در حقیقت یہ مسئلہ اپنے اندر کئی پہلو رکھتا ہے ایک پہلو کے لحاظ سے اس کے دو حصے ہیں ایک حصہ جماعت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور ایک حصہ خلافت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔امراء کا وجود اور ان کے اختیارات زیادہ تر شرعی مسائل پر مبنی ہیں اور جماعتوں کا حق رائے دہندگی اور اس قسم کے بہت سے مسائل موجودہ زمانہ کے رواج پر مبنی ہیں، گویا ایک حصہ ہی ایسا ہے جو درحقیقت شریعت سے تعلق رکھتا ہے لیکن سب سے بڑی چیز جو اس قسم کے مسائل کے متعلق در ا