خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 182
خطابات شوری جلد سوم ۱۸۲ رت ۱۹۴۶ء چاہئے۔نئے احمدی ہونے والے بھی تبلیغ کریں تو چالیس ہزار آدمی اگر چالیس ہزار احمدی نہ بنا سکے تو نصف تو ضرور بنالے گا۔اسی طرح اگلے سال ساٹھ ہزار آدمی احمدیت میں داخل ہوں گے۔پھر وہ ساٹھ ہزار بھی تبلیغ کرے تو اگلے سال تک ایک لاکھ احمدی احمدیت میں داخل ہونے لگ جائے گا۔یہی صورت ہے جس سے ہم احمدیت کا رُعب قائم کر سکتے ہیں۔اور یہی صورت ہے جو دلوں کو صداقت کی طرف مائل کر سکتی ہے۔پس اس وقت ضرورت ہے کہ احمدیت کی ایک زبر دست رو چلائی جائے۔جب احمدیت کی رو چل جائے گی تو لوگوں کے دل خود بخود احمدیت کی طرف جھک جائیں گے اور ان پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ ان کی بیماریوں کا علاج صرف احمدیت ہے۔اُس وقت تم ہر روز یہ خبریں سنو گے کہ آج فلاں گاؤں احمدی ہو گیا، آج فلاں قبیلہ احمدی ہو گیا، آج فلاں قوم احمدی ہو گئی۔تم دیکھو گے کہ دوسری قومیں لوگوں کو احمدیت سے روکیں گی لیکن لوگ رکیں گے نہیں۔پس میں دوستوں کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ وقت جماعت کے بڑھنے کا ہے۔اس کو ہاتھ سے مت جانے دو اور اس سے فائدہ اُٹھاؤ۔اب حالات اس قسم کے پیدا ہور ہے ہیں کہ مسلمان اس بات کے سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ ان کے لئے احمدیت کے سوا بچنے کی کوئی جگہ نہیں۔اب اس قسم کے مصائب آنے والے ہیں جو مسلمانوں کو مجبور کریں گے کہ وہ احمدیت کی طرف جھکیں اور ان کے لئے سوائے احمدیت کے رستہ کے اور کوئی رستہ مصائب سے نجات دلانے والا نہ ہو گا۔اُس وقت مسلمان احمدیت کی طرف اس طرح گریں گے جس طرح برف کا تو وہ پہاڑ سے گرتا ہے لیکن اُس وقت کے آنے تک ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی انتہائی جد و جہد تبلیغ کے لئے صرف کریں۔اس وقت جو نمونہ جماعت نے پیش کیا ہے وہ نہایت ناقص ہے یعنی آٹھ سو جماعتوں میں سے صرف ۷۸ جماعتوں نے ۱۴۰۰ آدمیوں کو احمدی بنانے کے وعدے بھجوائے ہیں۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ واپس جا کر جماعتوں کی غفلت اور سستی دور کریں اور اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے لئے پورے اخلاص اور جوش کے ساتھ حصہ لیں۔(الفضل قادیان ۱۷ رمئی ۱۹۴۶ء)