خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 184
۱۸۴ ت ١٩٤٦ء خطابات شوری جلد سوم پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک قاعدہ کی صورت ہوتی ہے اور ایک عملی وقتیں ہوتی ہیں۔جہاں تک قواعد کا سوال ہے اسلام ہماری راہ نمائی کرتا ہے لیکن جہاں تک عمل کا سوال ہے ہماری ذہنتیں اس میں بہت کچھ داخل ہو جاتی ہیں۔مثلاً اسلام ہمیں کہتا ہے کہ نماز ٹھہر ٹھہر کر ادا کرو، جلدی نہ کرو۔اب جلدی ادا نہ کرو کا مسئلہ اور ٹھہر ٹھہر کر ادا کرو کا مسئلہ جہاں تک لغت کے الفاظ کا سوال ہے اسلام نے اس کے متعلق ہماری راہ نمائی کر دی ہے۔مگر جلدی اور ٹھہرنے کا جو مفہوم ہے اس میں ضرور انسانی اذہان اور افکار اور میلانات آجائیں گے۔ایک حنفی بھی یہی کہے گا کہ نماز کو ٹھہر کر ادا کرنا ضروری ہے مگر وہ معنے بالکل اور کرے گا۔ایک اہلحدیث بھی یہی کہے گا کہ نماز کو ٹھہر ٹھہر کر ادا کرنا ضروری ہے مگر وہ معنے اور لے گا۔ایک وظیفہ خوار انسان بھی ٹھہر ٹھہر کر نماز ادا کرنے کے کوئی معنے لے گا مگر اس کا مفہوم دونوں سے جُدا ہو گا۔صوفیاء میں سے بعض ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جنہوں نے تہجد کی پہلی رکعت میں ہی ساری رات گزار دی اور اذان کے وقت جلدی جلدی دوسری رکعت پڑھ کر ۲ رکعت میں نماز تہجد ادا کی۔جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلی رکعت میں ساری رات اس لئے گزار دی کہ شریعت کہتی ہے کہ ٹھہر ٹھہر کر نماز ادا کرو۔اور جب پوچھا گیا کہ دوسری رکعت آپ نے جلدی کیوں پڑھی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس موقع پر شریعت کا دوسرا حکم ہمارے سامنے آ گیا کہ تہجد کی نماز صبح کی نماز سے پہلے ختم ہو جانی چاہئے چنانچہ جتنا وقت بھی ہمیں ملا ہم پابند تھے کہ اس وقت کے اندر اندر تہجد کو ختم کر دیں۔پھر ایسے لوگ بھی امت محمدیہ میں پائے جاتے ہیں جن کے نزدیک ٹھہر ٹھہر کر نماز ادا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ الفاظ کا مفہوم سمجھ میں آجائے اور اتنا فاصلہ ہر آیت یا ہر کلمہ کے درمیان ہو کہ جو مفہوم سمجھ میں آیا تھا وہ دل میں جذب ہو جائے۔اُنہوں نے ٹھہر ٹھہر کر نماز ادا کرنے کا مفہوم یہ لیا ہے کہ چار رکعتیں مثلاً ۱۰ یا ۱۵ منٹ میں ادا کر لی جائیں لیکن بعض اور نے یہ کہا ہے کہ ٹھہر ٹھہر کر نماز ادا کرنے کا صرف اتنا مفہوم ہے کہ انسان کو یہ پتہ لگتا جائے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، ورنہ زیادہ ٹھہرنے کا یہ نتیجہ ہو گا کہ خیالات پراگندہ ہو جائیں گے۔اسی کے نتیجہ میں حنفی نماز پیدا ہوئی جو ذرا جلدی جلدی ہوتی تھی اور اسی کے نتیجہ میں آخر وہ نماز پیدا ہوئی جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ