خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 179

خطابات شوری جلد سوم 129 ت ۱۹۴۶ء دوستوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنا قدم بڑھائیں اور اس کا رخانہ کے تالوں کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔یہ ایک ایسی چیز ہے جو جماعت کی مضبوطی اور اس کی ترقی کے ساتھ بہت گہرا تعلق رکھتی ہے۔ہماری جماعت کی تعداد اس وقت لاکھوں تک پہنچی ہوئی ہے اگر لاکھوں آدمی اس کارخانہ کے بنے ہوئے تالے خریدنے لگیں تو یہ کارخانہ ہمیں تھوڑے عرصہ میں ہی موجودہ حالت سے دوگنا تین گنا بلکہ چار گنا کرنا پڑے گا میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں کم سے کم ایک لاکھ تالا سالانہ ضرور استعمال ہوتا ہے اگر پانچ سو روزانہ کے حساب سے بھی آئرن میٹل ورکس والے تالے بنا ئیں تو وہ سال بھر میں ایک لاکھ اسی ہزار تالا بنا سکتے ہیں اور ان تالوں کا قریباً دو تہائی حصہ اپنی جماعت میں ہی خرچ ہوسکتا ہے بغیر اس کے کہ ہمارے دوست ایک پیسہ کا بھی زائد خرچ برداشت کریں صرف انہیں اتنا کرنا پڑے گا کہ وہی روپیہ جو وہ تالوں کو خریدنے کے لئے دوسرے دکانداروں کو دیتے ہیں وہ اپنے کارخانہ والوں کو دے دیا کریں۔اس طرح ہزاروں ہزار روپیہ بغیر ایک پیسہ کے بوجھ کے سلسلہ کے پاس آ سکتا ہے اور اس سے تبلیغ اسلام کو موجودہ حالت سے کئی گنا زیادہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔آجکل پانچ آنے کا تالا تو مل نہیں سکتا بارہ آنہ روپیہ یا دو روپیہ کا ایک تالا آتا ہے اور احمدی اپنی ذاتی ضروریات یا اپنے گھر کی ضروریات کے لئے تالا خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔اگر امریکہ یا بمبئی یا کلکتہ کی کسی فرم کا بنا ہوا وہ کوئی تالا خریدیں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ روپیہ اور لوگوں کے ہاتھ میں جائے گا خصوصاً ایسے لوگوں کے ہاتھ میں جو اسلام کے مخالف ہیں۔اگر ان کے دلوں میں کبھی صدقہ و خیرات کا خیال بھی آیا تو بہر حال وہ روپیہ عیسائیت کی تقویت میں خرچ ہو گا لیکن اگر ہماری جماعت کے دوست احمد یہ کارخانہ کے بنے ہوئے تالے خریدیں گے تو یہ سارا روپیہ خدائے واحد کے نام کی اشاعت اور اس کے کلمہ کے اعلاء کے لئے خرچ ہوگا اور سلسلہ کے کاموں کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جا سکے گا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں نہ صرف اپنی ذاتی ضروریات کے لئے ہمیشہ آئرن میٹل ورکس کے بنے ہوئے تالے استعمال کرنے چاہئیں بلکہ ہر گاؤں اور ہر شہر میں اس کی ایجنسیاں قائم کرنی چاہئیں اور اس طرح اپنی جماعت میں خصوصاً اور دوسروں میں عموماً اس کا رخانہ کی بنی ہوئی چیزوں کو پھیلانے کی