خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 178
خطابات شوری جلد سوم ۱۷۸ رت ۱۹۴۶ء کارخانہ بنایا گیا ہے اور ایک لاکھ روپیہ کا سرمایہ اس کے لئے جمع کیا گیا ہے، گو جو اطلاعات مجھے پہنچی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے دوستوں کو اس قسم کے کارخانہ کی پوری واقفیت نہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ایک لاکھ میں گزارہ ہو جائے گا یا ایک لاکھ نہ سہی تو ڈیڑھ لاکھ میں یہ کارخانہ چل نکلے گا لیکن ہمارا اندازہ یہ ہے کہ اس قسم کے کارخانہ کو کامیاب بنانے کے لئے ۱۵۔۲۰ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے۔اسی طرح صنعت و حرفت کے بنیادی اصول کے لئے ہم نے سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کی ہے اس میں اعلیٰ سے اعلیٰ سائنس کے مسائل کی تحقیقات کی جائے گی ، ایسے مسائل کی جو علمی بھی ہوں گے اور عملی بھی۔صنعت و حرفت سے متعلق میں نے جماعت کو جو توجہ دلائی ہے اسی سلسلہ میں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اس کام میں ہمیں دوستوں کے تعاون کی ضرورت ہے اگر ہمارے کارخانوں کا مال دوسرے لوگ فوراً لے لیتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہماری جماعت کے افراد اپنے کارخانوں کا تیار کیا ہوا مال نہ خریدیں۔میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلا حق ہماری جماعت جماعتی کارخانوں کا مال خریدیں کا ہے کہ وہ اپنے کارخانوں کا تیار کردہ مال خریدے اور اپنے استعمال میں لائے۔یہاں اب تک پندرہ میں کارخانے جاری ہو چکے ہیں جن میں سے دو سلسلہ کے ہیں، ایک کارخانہ قالینوں کا ہے اور دوسرا تالوں کا۔قالین ایسی چیز ہے جس کا خرید نا عام احمدیوں کی دسترس سے باہر ہے کیونکہ قالین زیادہ قیمتی ہوتے ہیں اور وہ اسی سو یا دو سو روپیہ گز تک فروخت ہوتے ہیں۔انہوں نے کچھ سستا کام بھی شروع کر دیا ہے لیکن تالا ایک ایسی چیز ہے جو ہر احمدی کے استعمال میں آتا ہے اگر بمبئی مدراس اور کراچی کی بڑی بڑی فر میں ان تالوں کو خریدتی ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ احمدی ان تالوں کو خریدنے سے گریز کریں اور یہ خیال کریں کہ شاید ہمارے کارخانہ والوں کا مال اچھا نہیں ہو گا۔جب ماہرینِ تجارت ان چیزوں کو خریدتے اور اس کی ایجنسیاں لینے کی کوشش کرتے ہیں اور بڑی بڑی فر میں اس مال کو پسند کرتی اور اسے شوق سے خریدتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہماری جماعت کے دوست اس طرف توجہ نہ کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ جہاں دوسرے لوگ اس کارخانہ کی بنی ہوئی اشیاء کو خریدتے رہے ہیں وہاں ہماری جماعت کے