خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 180

خطابات شوری جلد سو ۱۸۰ ماورت ۱۹۴۶ء کوشش کرنی چاہئے۔(الفضل ۳۰ مئی ، ۶ جون ۱۹۶۲ء) دوسرا دن۔ہر احمدی سال میں کم از کم مجلس مشاورت کے دوسرے روز ۲۰ اپریل ۱۹۳۶ء کو سب کمیٹی دعوۃ و تبلیغ کی تجویز پر اظہار خیال ایک احمدی بنانے کا عہد کرے کرتے ہوئے ممبران نے تبلیغ کو وسعت دینے پر زور دیا۔اس موقع پر نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:- دوستوں نے تبلیغ کے متعلق بہت زور دیا ہے مگر یہ کہنا کہ تبلیغ کرنی چاہئے اور چیز ہے اور تبلیغ کرنا اور چیز ہے۔ہماری جماعت میں بہت تھوڑے دوست ایسے ہیں جو باقاعدگی سے تبلیغ کرتے ہیں اور اس ایک حصہ کی تبلیغ کا یہ نتیجہ ہے کہ دو تین ہزار آدمی سالانہ ہندوستان میں احمدیت میں داخل ہوتا ہے لیکن اس رفتار سے تو ہمیں صرف ہندوستان کو احمدی بنانے کے لئے ہی کئی سو سال لگ جائیں گے۔جب یہ رفتار ہماری ان لوگوں کے متعلق ہے جو دن رات ہمارے پاس رہتے ہیں تو باقی دُنیا کو احمدی بنانے کے لئے ہمیں کتنا عرصہ درکار ہو گا۔کیا جماعت کی تبلیغ کا یہی نتیجہ ہونا چاہئے کہ بیعت کرنے والوں کی تعداد دو تین ہزار پر آکر رک جائے ؟ میں دیکھتا ہوں کہ دوست اس مجلس میں آکر لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں کہ تبلیغ کرنی چاہئے لیکن کہنا اور بات ہے اور کرنا اور بات ہے۔انسان کا فرض ہے کہ جس بات کے لئے وہ دوسروں سے کہے اس پر خود بھی عمل کر کے دکھائے۔بعض لوگوں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ خود ایک کمزوری میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن دوسروں پر زور دیتے چلے جاتے ہیں کہ تم یہ نہیں کرتے اور وہ نہیں کرتے۔دو تین سال ہوئے یہاں مجلس مشاورت میں ایک دوست نے چندہ کی ادائیگی کے متعلق ایک لمبی تقریر کی جب وہ تقریر کر چکے تو وہاں کے کسی عہدہ دار نے بتایا کہ یہ خود دو سال سے چندہ نہیں دے رہے۔یہ طریق ایمان کو کمزور کر دیتا ہے، مومن کو اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔تبلیغ کی وسعت کے پیش نظر ہم نے ہر ایک احمدی کا یہ فرض قرار دیا ہے کہ وہ سال