خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 177
خطابات شوری جلد سوم 122 ت ۱۹۴۶ء سکیم یہ ہے کہ آہستہ آہستہ غیر ملکوں سے براہ راست خط و کتابت کر کے انھیں مال بھجوانے کی کوشش کی جائے۔اسی طرح سندھ میں ایک جینگ اور پرینگ فیکٹری کھلی ہوئی ہے اب تیل نکالنے کی ایک فیکٹری اور سیاہی بنانے کا ایک کارخانہ کھولنے کی تجویز ہورہی ہے۔مشینوں کے لئے آرڈر جاچکے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ دو تین ماہ تک جب مشینیں پہنچ جائیں گی تو یہ کارخانے جاری ہو جائیں گے۔میں اس موقع پر جماعت کو بھی اور صدرانجمن احمدیہ کو بھی اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اسے اپنے ریزرو فنڈ کو مضبوط کرنے کی خاص طور پر کوشش کرنی چاہئے تا کہ جب صنعت و حرفت کی طرف توجہ کی جائے اور مختلف قسم کے کارخانے جماعت کی آئندہ ترقی اور بہبود کے لئے جاری کئے جائیں تو زائد روپیہ ان کارخانوں میں لگایا جا سکے۔اسی طرح میں جماعت کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اموال کو بجائے ایسی جگہ رکھنے کے جہاں اموال کا رکھنا کوئی نتیجہ خیز نہیں ہوتا ( جیسے بعض لوگوں کا روپیہ گھروں میں پڑا رہتا ہے یا بعض بنکوں میں رکھوا دیتے ہیں ) متفرق کاموں میں لگائے خصوصاً ان کارخانوں میں جو سلسلہ کی طرف سے جماعت کی ترقی کے لئے جاری کئے گئے ہیں اگر محض سلسلہ کا روپیہ ان کاموں پر لگایا جائے تو یہ کام بہت محدود دائرہ میں رہیں گے لیکن اگر ساری جماعت کا روپیہ ہو تو ان کارخانوں میں بہت کچھ ترقی ہو سکتی ہے۔میں سمجھتا ہوں اب ہماری جماعت کی حالت ایسی ہے کہ اگر وہ ان کاموں سے دلچسپی لے تو کروڑوں روپیہ دے سکتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ چار پانچ کروڑ رو پید اگر بنکوں کی بجائے کارخانوں میں لگایا جائے تو بہت جلد ترقی ہوسکتی ہے پھر علاوہ اس کے کہ جماعت کا روپیہ اس رنگ میں سلسلہ کے کارخانوں کی ترقی کا موجب ہو سکتا ہے دوسرا فائدہ اس کا یہ بھی ہے کہ بجائے زکوۃ میں روپیہ کا ایک حصہ صرف ہونے کے وہی روپیہ مزید نفع کا موجب بن سکتا ہے۔بہت سے کمزور لوگ ایسے ہوتے ہیں جو روپیہ تو جمع کرتے جاتے ہیں مگر انھیں بھی زکوۃ کا خیال نہیں آتا۔اگر اس قسم کے لوگ اپنا روپیہ کارخانوں میں لگا دیں تو یہ چیز انھیں ایک۔بہت بڑے گناہ سے بچانے کا موجب بن سکتی ہے۔بیرونجات میں بھی مختلف مقامات پر ہماری جماعت کے دوست تجارت کی طرف توجہ کر رہے ہیں۔چنانچہ کراچی میں کئی نئے کام شروع کئے گئے ہیں، کوئٹہ میں ایک سوتی کپڑے کا