خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 176
خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۶ء پڑا اور اُنہوں نے سمجھا کہ یہ مسلمانوں میں سے ایک فعال جماعت ہے۔جب صنعت و حرفت میں اس طرح ترقی کر رہی ہے تو ہمیں اس کے مذہبی مسائل کا بھی جائزہ لینا چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ وہ کس حد تک دُنیا کے لئے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔بہر حال صنعت و حرفت ایک ایسی چیز ہے جس کا قدرتی طور پر دوسروں پر غیر معمولی اثر پڑتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جو جماعت اس میدان میں اپنے قدم آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے وہ دوسرے معاملات میں بھی دوسروں سے زیادہ سنجیدہ اور عقلمند ہوگی۔چنانچہ بعض چیزیں جو اس جگہ کے کارخانوں میں تیار ہوتی ہیں وہ تو اس قدر مقبول ہوتی ہیں کہ سارے ہندوستان میں اسی جگہ سے جاتی ہیں مثلاً بیٹریاں آجکل قادیان سے ہی بن کر جاتی ہیں اور ہزاروں ہزار کی تعداد میں بمبئی ، کلکتہ اور مدراس وغیرہ میں فروخت ہوتی ہیں اور اس قسم کی منڈی اُنہوں نے پیدا کر لی ہے کہ خود بخو دلوگ ان چیزوں کی طرف جھکتے چلے جاتے ہیں اور وہ دوسرے سامانوں پر قادیان کے تیار کردہ سامان کو ترجیح دیتے ہیں۔اسی طرح بجلی کے اور بھی سامان قادیان میں تیار ہوتے ہیں مثلاً لیمپ ہیں، پیٹر ہیں، استریاں ہیں، سیکھے ہیں، ٹیبل فین تو تیار ہو کر مارکیٹ میں آگئے ہیں اور چھت کے پنکھے بھی تیار کئے جا رہے ہیں اسی طرح اور کئی چیزیں ہیں جو قادیان کے کارخانوں میں تیار ہوتی ہیں یا ان کے تیار کرنے کی سکیم زیر غور ہے۔اس دوران میں سلسلہ کی طرف سے بھی ۲ کارخانے قائم کئے گئے ہیں ایک کارخانہ آئرن میٹل ورکس ہے جس میں تالوں کا کام ہوتا ہے کا رخانہ والے پانچ سو تالے روزانہ بناتے ہیں اور ان کی سکیم یہ ہے کہ آہستہ آہستہ اپنے کام کو ایسا وسیع کریں کہ وہ پندرہ سو بلکہ دو ہزار تالا روزانہ بنانے لگ جائیں۔اس کارخانہ کی بنی ہوئی چیزیں خدا تعالیٰ کے فضل سے مقبول ہو رہی ہیں اور کثرت کے ساتھ لوگوں میں فروخت ہوتی رہتی ہیں، آئندہ کا حال اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔اسی طرح تحریک جدید کی طرف سے ایشیا ٹک کارپٹ ملز جاری کی گئی ہیں جس میں قالینیں بنتی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ کارخانہ ایسا کامیاب ہوا ہے کہ تیاری کے بعد مال کارخانہ میں نہیں رہتا بلکہ فوراً نکل جاتا ہے۔پہلے کا رخانہ والے اپنا مال تیار کر کے امرتسر بھیجا کرتے تھے اب اُنہوں نے بمبئی میں بھیجنا شروع کر دیا ہے۔اور ان کی