خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 166
۱۶۶ ت ١٩٤٦ء خطابات شوری جلد سوم اسی طرح ہمیں اُن کارخانوں کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے جو جاری کئے گئے ہیں یا جاری کئے جانے والے ہیں۔ان تجارتی اداروں کو پھیلانے کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے جو مختلف مقامات پر قائم کئے جانے والے ہیں۔پھر تربیت کی نگرانی کے لئے بھی روپیہ کی ضرورت ہے اور تعلیمی کاموں کی وسعت کے لئے بھی بہت سے اخراجات کی ضرورت ہے۔ان سارے کاموں کو مدنظر رکھتے ہوئے حوصلہ اور دلیری کے ساتھ منزلِ مقصود کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے جماعت کو ہمیشہ آگے ہی آگے اپنا قدم بڑھانا چاہئے ایسا نہ ہو کہ اس کا قدم سست ہو جائے اور وہ کامیابی کی منزل پر پہنچتے پہنچتے رہ جائے۔ہماری جماعت کے وہ نمائندے جو سب کمیٹی بیت المال میں شامل ہیں اُن کو اس امر کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان تمام ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آمد و خرچ کا بجٹ تیار کریں۔دوسری طرف میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ موجودہ بجٹ ہماری ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا۔ہمارا موجودہ بجٹ تیرہ لاکھ ساٹھ ہزار نو سو تین روپیہ کا ہے۔اگر سندھ کی زمینوں اور سلسلہ کے کارخانوں کا بجٹ بھی شامل کر لیا جائے تو یہ پندرہ لاکھ کا بجٹ بن جاتا ہے۔اگر تحریک جدید کے چندے اور تحریک جدید کے کارخانوں اور زمینوں کی آمد بھی شامل کر لی جائے تو وہ دس لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔پندرہ لاکھ وہ اور دس لاکھ یہ ۲۵ لاکھ کا بجٹ ہوا۔مگر میں نے جو سکیم بنانی ہے اس کے لئے ۲۵ لاکھ کا بجٹ کسی صورت میں بھی اکتفا نہیں کر سکتا۔در حقیقت بچت دو تین لاکھ سے زیادہ نہیں باقی سب روپیہ لگا ہوا ہے اور دو تین لاکھ روپیہ کسی صورت میں بھی ہماری ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ قریب ترین عرصہ میں ہم انجمن کے بجٹ کو ۲۵ لاکھ تک پہنچا دیں اسی طرح تحریک جدید کے بجٹ کو بھی قلیل ترین عرصہ میں ۲۵ لاکھ تک پہنچا دیں۔اگر صد را انجمن احمد یہ اور تحریک جدید دونوں کا مجموعی بجٹ ہم پچاس لاکھ تک پہنچا دیں تو وہ سکیم جو میں نے بیان کی ہے پوری ہو سکتی ہے اس کے بغیر اس سکیم کے پورا ہونے کی کوئی صورت نہیں۔پس دوستوں کو خصوصیت سے اس طرف توجہ سے کام لینا چاہئے اور جلد سے جلد اس روپیہ کی فراہمی کی کوشش کرنی چاہئے۔ایک سکیم دیہاتی مبلغین کی بھی ہے مگر اس کا بجٹ بھی نہیں رکھا گیا حالانکہ پچاس کے قریب