خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 167

خطابات شوری جلد سوم 172 ت ۱۹۴۶ء طالب علم پڑھ رہے ہیں اور پندرہ مبلغ اپنے کام پر لگے ہوئے ہیں۔مگر وہ پندرہ مبلغ جو اپنے کام پر لگے ہوئے ہیں اُن کے اخراجات تو بجٹ میں شامل کر لئے گئے ہیں اور باقی پچاس جو پڑھ رہے ہیں اور عنقریب مختلف دیہات میں تبلیغ کے لئے مقرر کئے جانے والے ہیں اُن کا بجٹ صدر انجمن احمدیہ نے نہیں رکھا۔اگر سو دیہاتی مبلغ ہمارے مدنظر ہوں اور فی کس تبلیغی لٹریچر اور گزارہ اور آمد و رفت کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ۷۵ روپیہ ماہوار خرچ رکھا جائے تو یہ ساڑھے سات ہزار روپیہ ماہوار یا ایک لاکھ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے اگر سو کی بجائے پچاس پر ہی انحصار رکھا جائے تب بھی پچاس دیہاتی مبلغین کے لئے پچاس ہزار روپیہ سالانہ خرچ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ تعداد بھی کچھ بھی نہیں ، ۶۵ مبلغ تین چار حلقوں میں بھی صحیح طور پر کام نہیں کر سکتے۔میرے نزدیک اس سکیم کو بھی بڑھا کر دیہاتی مبلغین کو ایک ہزار تک پہنچانے کی ضرورت ہے لیکن اگر فی الحال اس کو جانے بھی دو اور ایک سو مبلغین کا اندازہ رکھو تب بھی ایک لاکھ روپیہ سالانہ کی دوتین سال کے اندر اندر ہمیں صرف دیہاتی مبلغین کے لئے ضرورت ہو گی۔اسی طرح کا لج کی ترقی کے لئے جو سکیمیں زیر غور ہیں اگر اُن کو بھی مدنظر رکھا جائے تو ایک دو لاکھ اور رقم بڑھ جائے گی۔پھر اگر دوسری سکیمیں جو میں نے بیان کی ہیں اُن کو مدنظر رکھا جائے تو تین چار سال میں ہمیں تین چار لاکھ روپیہ سالانہ کی اور ضرورت پیش آجائے گی اسی لئے میں نے ریز روفنڈ کی مضبوطی کی جماعت کو متعدد بار تاکید کی ہے اور صدر انجمن احمدیہ کو بھی اِس طرف بار بار توجہ دلائی ہے جو نقد روپیہ کی صورت میں ریزرو فنڈ جمع ہے وہ بہت کم ہے میں نے ہدایت کی تھی کہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ کے حساب سے ریز رو فنڈ جمع کیا جائے۔چنانچہ اب تک اس فنڈ میں ۶ لاکھ سے زائد روپیہ جمع ہو چکا ہے۔اس سال کے بجٹ میں میں نے ایک لاکھ اسی ہزار روپیہ ریز رو فنڈ میں رکھنے کی ہدایت کی ہے اگر صدر انجمن احمدیہ نے میری ہدایات کے مطابق کام کیا تو چند سال کے بعد اس روپیہ سے ہم بہت سے مفید کام خدا تعالیٰ کے فضل سے سرانجام دے سکیں گے لیکن جس شکل میں بجٹ بنایا گیا ہے میں کہتا ہوں کہ صدر انجمن احمد یہ غالباً اتنا رو پید ریز روفنڈ میں جمع نہیں کر سکے گی اس لئے ہمارے لئے سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیں کہ ہم اپنی آمد کو بڑھانے کے ذرائع پر غور کریں۔ناظر صاحب بیت المال