خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 163

خطابات شوری جلد سوم ۱۶۳ ت ۱۹۴۶ء علاقے پائے جاتے ہیں اور اُن میں اِس قدر غربت ہے کہ خدا تعالیٰ کے لاکھوں لاکھ بندے جانوروں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں۔اگر ڈاکٹروں کے ذریعہ انہیں سچائی کی طرف توجہ دلائی جائے تو یقیناً حق و صداقت کی طرف وہ جلدی آ سکتے ہیں۔دینی تعلیم کے لحاظ سے مدرسہ احمدیہ پہلے سے قائم ہے، اسی طرح جامعہ احمدیہ بھی دیر سے قائم ہے مگر اب ہم مدرسہ احمدیہ اور جامعہ کو بھی بڑھا رہے ہیں۔پہلے اس مدرسہ میں بہت ہی کم طلبہ آیا کرتے تھے مگر اب ہم نے طلباء کو بڑھانے کا خاص طور پر انتظام کیا ہے اور غرباء کے لئے وظائف بھی مقرر کئے ہیں تا کہ جولوگ اپنے بچوں کو اخراجات کی کمی کی وجہ سے تعلیم نہیں دلا سکتے وہ ان وظائف کے ذریعہ اپنے بچوں کو پڑھا سکیں۔اس مد میں ہماری جماعت کے کچھ باہر کے دوست بھی حصہ لے رہے ہیں اور خود میں نے بھی ذاتی طور پر وعدہ کیا ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق فرمائی تو میں پچاس طالب علموں کو اپنے خرچ پر تعلیم دلاؤں گا۔میرا ارادہ ہے کہ میں ایک سال پانچ طالب علموں کو وظیفہ دوں۔دوسرے سال پھر اور پانچ طالب علموں کو وظیفہ دوں اور اس طرح قدم بقدم پچاس طالب علموں کو اپنے خرچ پر سلسلہ کی آئندہ تبلیغ کے لئے تیار کروں اور چونکہ کورس آٹھ سال کا ہے اس لئے اٹھارہ سال میں یہ طالب علم تیار ہوسکیں گے۔ان ۱۸ سال میں اُن کے وظائف پر چھیانوے ہزار روپیہ خرچ آئے گا۔میں اس چھیانوے ہزار روپیہ میں سے پانچ ہزار روپیہ سالانہ کے حساب سے انشاء اللہ ادا کرتا رہوں گا یا اگر اللہ تعالیٰ نے تو فیق عطا فرمائی تو چھ ہزار سالانہ ادا کر دیا کروں گا تا کہ اٹھارہ سال کے بعد پچاس عالم مبلغ میرے خرچ پر پیدا ہو جائیں اور اسلام اور احمدیت کے لئے مفید خدمت سر انجام دے سکیں۔(الفضل ۲۰ فروری ۱۹۶۲ء) تربیت کا جماعت کی ترقی کے ساتھ نہایت گہرا تعلق ہے اور جو قوم اس کو نظر انداز کر دیتی ہے وہ اپنی ہلاکت اور بربادی کا سامان آپ مہیا کرتی ہے۔میں نے اس غرض کے لئے کہ جماعت کا تربیتی پہلو مضبوط ہو انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ کی تنظیمیں قائم کی ہیں اگر ان تنظیموں کو مضبوط کر لیا جائے تو تربیت کا حصہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت حد تک مکمل ہو جاتا ہے۔