خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 162
خطابات شوری جلد سوم ۱۶۲ ت ۱۹۴۶ء ہمارے محدود ذرائع ہمیں اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔سر دست ہم نے قادیان میں اپنا کالج قائم کر دیا ہے۔اس سال ہمارے کالج کے لڑکے ایف اے اور ایف ایس سی کا امتحان دیں گے۔اس کے بعد جیسا کہ اعلان کیا جا چکا ہے بی اے اور بی ایس سی کی کلاسز انشاء اللہ کھولی جائیں گی اور جب یہ دو سال گزر جائیں گے تو پھر ایم۔اے اور ایم۔ایس سی کی کلاسز ہم کھول دیں گے تاکہ یہ کالج مکمل ہو جائے۔اس کے ساتھ ہی میرا یہ بھی منشاء ہے کہ ایف ایس سی میڈیکل کی کلاسز بھی ہم کھول دیں۔جب یہ ساری کلاسز گھل جائیں گی تو ہمارا کالج انشاء اللہ اپنی تکمیل کو پہنچ جائے گا۔بی اے اور بی ایس سی کے لئے نئی عمارت شروع کر دی گئی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ تمبر اکتو بر تک جب ان کلاسز کے گھلنے کا وقت آئے گا ہمارے پاس عمارت تیار ہو گی اور سامان بھی ہم حاصل کر چکے ہوں گے۔اس میں کوئی مجبہ نہیں کہ ہمارے راستہ میں کئی قسم کی دکھتیں اور مشکلات حائل ہیں لیکن دکھتیں اور مشکلات کس کام میں نہیں ہوتیں۔ہر قسم کی مشکلات کے ہوتے ہوئے اُن کو سر کرنا اور دقتوں کے ہوتے ہوئے اُن کو زیر کر کے کام کر جانا یہی بہادروں اور دلیروں کا نشان ہوتا ہے۔اس کے بعد تعلیمی سلسلہ میں میرا پروگرام یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہمیں اس کالج کو مکمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے تو اس کے بعد دو اور کالج قائم کئے جائیں جن کا قائم کرنا ہمارے لئے نہایت ضروری ہے ایک تو انجینئر نگ کالج انشاء اللہ قائم کیا جائے گا اور ایک کامرس کالج قائم کیا جائے گا۔صنعت و حرفت کا تعلق انجینئر نگ سے ہے اور تجارت کا تعلق کامرس سے ہے اور مسلمان اِن دونوں علوم میں بہت پیچھے ہیں۔ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ نے ایک منظم جماعت بنایا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے لئے بھی اور دوسرے مسلمانوں کے لئے بھی زیادہ سے زیادہ سہولت کے راستے کھولیں۔اسی طرح میرے ارادوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ توفیق عطا فرمائے تو ایک میڈیکل سکول یا میڈیکل کالج بھی کھولا جائے تا ہمارے مبلغین کے کام میں سہولت پیدا ہو۔بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں خالی مبلغ کام نہیں کر سکتا بلکہ اُس کا ڈاکٹر ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔خود ہندوستان میں ایسے کئی علاقے ہیں کہ اگر ہم وہاں ڈاکٹر بھیجیں تو بہت سے لوگ ہماری تبلیغ سننے لگ جائیں۔خصوصاً جنوبی اور مشرقی ہند میں کثرت سے ایسے