خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 161
خطابات شوری جلد سوم 171 ت ۱۹۴۶ء مذہب کے دو حصے مذہب نام ہے تعلق باللہ اور شفقت علی خلق اللہ کا اور نہ تعلق باللہ کی کوئی حد بندی ہوسکتی ہے اور نہ شفقت علی خلق اللہ کی کوئی حد بندی ہوسکتی ہے۔دُنیا کے جتنے پیشے، جتنے حرفے اور جتنے کام ہیں اور جتنی ذمہ داریاں اس دُنیا میں پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب شفقت علی خلق اللہ کا ہی حصہ ہوتی ہیں۔اس میں تعلیم بھی شامل ہے، اس میں تربیت بھی شامل ہے اس میں تجارت بھی شامل ہے، اس میں صنعت وحرفت بھی شامل ہے، اس میں علوم وفنون بھی شامل ہیں، اس میں اقتصادیات بھی شامل ہیں، اس میں قضاء بھی شامل ہے، غرض یہ سارے امور اور ان کی وہ سینکڑوں شاخیں جو چلتی چلی جاتی ہیں ب کی سب شفقت علی خلق اللہ میں شامل ہیں اور سوائے اُس کام کے جس کے نتیجہ میں دُنیا پر ظلم ہوتا ہو اور کوئی کام نہیں جو شفقت علی خلق اللہ میں شامل نہ ہو اس لئے مذہب کی حد بندی سے کوئی اچھی بات باہر نہیں ہوتی۔پس یہ امر ہم میں سے ہر فرد کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ احمدیت کوئی تعلیمی انجمن نہیں، سیاسی انجمن نہیں، اقتصادی انجمن نہیں کہ کچھ حصہ کام کرنے کے بعد ہم دُنیا سے کہہ سکیں کہ ہماری ذمہ داری ختم ہو چکی ہے۔ہم ایک مذہب کے پیرو ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ ہم اپنی بھی اصلاح کریں اور دُنیا کی بھی اصلاح کریں اور اس کی کوئی حد بندی نہیں جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات کی کوئی حد بندی نہیں۔ہاں ہر کام وقت سے تعلق رکھتا ہے۔یہ کہنا کہ ہر چیز آج ہی ہو جائے بالکل غلط ہے مگر یہ کہنا کہ ہر چیز کسی آئندہ زمانہ میں ہی ہو سکتی ہے اس زمانہ میں کچھ نہیں ہو سکتا یہ بھی غلط ہے۔ہمیں کچھ نہ کچھ ایسے آثار دکھانے پڑیں گے جن سے دُنیا کا ہر عقلمند انسان یہ قیاس کرنے پر مجبور ہو کہ اب اس جماعت کا مقابلہ کرنا کوئی آسان بات نہیں۔جماعتی کاموں میں وسعت میرے نزدیک اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری جماعت اپنے نقطہ نگاہ کو اور اونچا کرے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی جماعت کے کاموں کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔جہاں تک تعلیم کا سوال ہے جیسا کہ میں ابھی اشارہ کر چکا ہوں ہم مدارس کی حد سے نکل کر اب خدا تعالیٰ کے فضل سے کالج قائم کر چکے ہیں اور گو ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دُنیا بھر میں تعلیم جاری کریں مگر ابھی