خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 143
خطابات شوری جلد سوم ۱۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ناظر صاحب کہتے ہیں کہ کوئی معین آدمی میری نظر میں نہیں ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ مدراس اس صورت میں بہر حال خالی رہے گا۔باقی جگہوں میں اُردو دان مبلغ سے ہی کچھ کچھ گزارہ چل سکتا ہے۔مثلاً دہلی۔لاہور۔پشاور اور کراچی میں۔لاہور اور پشاور میں تو خالص عربی دان مبلغ بھی کام کر سکتا ہے مگر کراچی اور دہلی میں کسی قدر رانگریزی جاننے کی بھی ضرورت ہے مگر مدراس میں ایسا شخص کوئی زیادہ کام نہیں دے سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ صدرانجمن احمد یہ کے پاس اب مولوی فاضل مبلغ بھی نہیں ہیں جن کو وہ بھجوا سکے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے سالوں میں نئے مبلغ تیار کرنے میں صدر انجمن احمدیہ نے سخت کو تا ہی سے کام لیا ہے۔بہر حال مدراس میں دار التبلیغ کے قیام کا سوال سر دست ہم اُڑا دیتے ہیں۔کلکتہ اور بمبئی کو ہم اپنا مرکز بنا چکے ہیں۔اب سوال صرف دہلی ، لاہور ، پشاور اور کراچی کا ہے۔میں یہ سوال دوستوں کی آراء کے لئے اُن کے سامنے پیش کرتا ہوں مگر اس موقع پر میں صدرا انجمن احمدیہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد تین چار انگریزی دان مبلغ تیار کرنے کی کوشش کرے تا کہ وہ ایسے شہروں میں تبلیغی کام کر سکیں جہاں انگریزی دان طبقہ زیادہ ہے۔“ نمائندگان کی آراء اور رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا : - کثرت رائے کے مطابق میں فیصلہ کرتا ہوں کہ دہلی ، لاہور، پشاور اور کراچی میں تبلیغی مشن کھولے جائیں ان کے اخراجات کے لئے ۱۵۰۰۔۹۰۰۔۱۵۰۰ اور ۹۰۰ روپیہ حسب ترتیب منظور کیا جاتا ہے۔کشمیر کے متعلق ایک دوست نے جو تجویز پیش کی ہے میرے نزدیک اُس کا خیال رکھنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے میں چاہتا ہوں آئندہ سال کے پروگرام میں کشمیر کو بھی مدنظر رکھ لیا جائے وہ واقعہ میں مرکز ہے بہت سے راستوں کا اور ہم کشمیر میں اپنا مرکز قائم کر کے چین وغیرہ کی طرف اپنی تبلیغ کو پھیلا سکتے ہیں۔“ دار الشیوخ میں صرف مستحق نظارت ضیافت کی طرف سے دارالشیوخ کے لئے ایک بڑی رقم کا مطالبہ مشاورت میں زیر بحث آیا۔چند ممبران افراد کو داخل کیا جائے کی آراء کے بعد حضور نے فرمایا :-