خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 142

خطابات شوری جلد سوم ۱۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء دہلی میں بھی وہ کچھ کام دے جائے گا، مگر انگریزی دان مبلغ زیادہ مفید ہوسکتا ہے مگر کلکتہ۔بمبئی۔مدراس اور کراچی میں انگریزی دان مبلغ ہی کام دے سکتے ہیں۔کراچی میں سندھی زبان جاننے والے زیادہ ہیں۔اسی طرح اور لوگ ہیں جو انگریزی جانتے ہیں ، اردو کا رواج وہاں بہت کم ہے۔اگر ہم اردو دان مبلغ بھجوا ئیں تو اُسے اتنی کامیابی نہیں ہوسکتی جتنی ایک انگریزی دان مبلغ کو ہو سکتی ہے۔بمبئی میں اس سے بھی زیادہ مشکلات ہیں اور مدراس میں تو اور بھی مشکل ہے۔کلکتہ میں اگر ہم کسی اُردو دان مبلغ کو بھجوائیں تو وہاں بھی وہ ایک محدود حلقہ میں ہی کام کر سکتا ہے ، مگر ہمارے پاس اس وقت انگریزی دان مبلغ ہیں ہی نہیں کہ ہم ان مقامات کی ضرورت کو پورا کر سکیں۔پچھلے سال کے بجٹ میں بھی جب انگریزی دان مبلغوں کا رکھا جانا تجویز کیا گیا تھا تو میں نے ناظر صاحب سے کہا تھا کہ مہربانی کر کے مجھے وہ آدمی بتائیں جن کو وہ ان مقامات پر بھجوائیں گے مگر وہ کسی آدمی کا نام نہ بتلا سکے۔اس بارہ میں میں کئی سال سے صدر انجمن احمدیہ کو توجہ دلا رہا ہوں کہ وہ انگریزی دان مبلغ تیار کرے مگر صدر انجمن احمدیہ نے اس طرف کوئی توجہ نہیں کی۔اگر انگریزی دان مبلغوں کی تجویز کو اس وقت منظور بھی کر لیا جائے اور ایک رقم رکھ لی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ انگریزی دان مبلغ ہمارے پاس ہیں ہی نہیں۔تحریک جدید کے ماتحت جو مبلغ تیار ہو رہے ہیں وہ ابھی بیرون ہند کی ضرورت پورا کرنے کے لئے ہی تیار کئے جا رہے ہیں۔جب بیرون ممالک کے لئے ہم اپنے مبلغ پوری طرح تیار کر لیں گے تب ہم اس قابل ہوں گے کہ صدرانجمن احمدیہ کو قرض کے طور پر اپنے وہ مبلغ کچھ عرصہ کے لئے دے دیں جو ولایت سے چھٹی پر آئیں مگر جب تک وہ دن نہیں آتا۔انگریزی دان مبلغین کا تیار کرنا صدر انجمن احمدیہ کے ذمہ ہے۔پس میں تو سمجھ ہی نہیں سکا کہ وہ کونسے آدمی ہیں جو ان مقامات پر رکھے جائیں گے۔ناظر صاحب تبلیغ پہلے یہ بتا دیں کہ اُنہوں نے کونسے آدمی تجویز کئے ہیں تا کہ ہم یہ فیصلہ کر سکیں کہ اس خرچ کی یہ ضرورت پیش آگئی ہے۔“ اس موقع پر حضرت مرزا شریف احمد صاحب ناظر تعلیم و تربیت نے عرض کیا کہ کوئی معتین آدمی نظارت کی نظر میں نہیں ہے۔حضور نے فرمایا۔