خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 144
خطابات شوری جلد سوم وو ۱۴۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء یہ سوال بظاہر ایک عقدہ معلوم ہوتا ہے۔جیسے سید ولی اللہ شاہ صاحب نے بھی اس کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ پہلے یہ رقم کہاں سے آتی تھی لیکن اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ جس شخص نے یہ کام شروع کیا تھا وہ جس طرح بھی ہوتا تھا یہ رقم مہیا کر لیتا تھا۔کسی شخص سے متعلق یہ امید کرنا کہ وہ اُسی معیار کے مطابق کام کرے جس معیار کے مطابق پہلے نے کیا تھا، بسا اوقات اُس کے متعلق ایک غلط اندازہ ہوتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ جب بھی میرے سامنے کا غذات آئے ہیں اور آٹھ دس دفعہ آچکے ہیں مجھے حیرت ہوئی ہے کہ میر صاحب ۲۴ ہزار سالانہ دار الشیوخ کے اخراجات کے لئے کہاں سے لاتے تھے۔میں نے جرح بھی کی ، اخراجات پر کئی اعتراضات بھی کئے اور بہت کچھ مطالبات کم بھی کر دیئے مگر ہمیشہ ہیں ہزار کے لگ بھگ یہ رقم رہی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کے بغیر قطعاً کام نہیں چل سکتا۔پس اصل بات تو یہ ہے کہ ایک شخص نے یہ کام شروع کیا اور اُسے کر کے دکھا دیا مگر دوسرا آدمی صاف طور پر کہہ رہا ہے کہ میں یہ روپیہ مہیا نہیں کر سکتا۔ایسی صورت میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس کام کو جاری رکھنے کے لئے امداد کریں اور یہ نہ دیکھیں کہ پہلا شخص کہاں سے روپیہ جمع کر لیا کرتا تھا۔یا تو ہمارے سامنے ایسا آدمی پیش کرنا چاہئے جو یہ سمجھتا ہو کہ میں میر صاحب کی طرح لوگوں سے روپیہ جمع کرلوں گا تب بیشک اس امداد کی ضرورت نہیں ہو سکتی لیکن اگر کوئی ایسا آدمی پیش نہیں کیا جا سکتا تو انجمن کے لئے ضروری ہے کہ وہ روپیہ منظور کرے۔اگر انجمن کسی ایک ایسے شخص کا نام پیش نہیں کر سکتی جو میر صاحب کی طرح اس کام کو کرنے کے لئے تیار ہو اور دوسرے لوگ جو ان کی جگہ کام کر رہے ہیں وہ خود اپنی عدم قابلیت کا اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں معلوم وہ روپیہ کہاں سے لاتے تھے۔تو بہر حال اُن کا نقطہ نگاہ ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے۔کچھ یہ بھی وجہ ہے کہ آجکل اخراجات بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔یہ تغیر زیادہ تر ۱۹۴۴ء کے آخر میں ہوا ہے۔میں سمجھتا ہوں ممکن ہے اگر میر صاحب مرحوم بھی زندہ ہوتے تو اُن کو یہ مشکلات پیش آ جاتیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کو نیک نامی کے زمانہ میں ہی اُٹھا لیا اور اب دوسرے لوگ اس بوجھ کو اُٹھانے سے قاصر ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ جب تک انجمن ہماری مدد نہ کرے ہم اس بوجھ کو میر محمد الحق صاحب