خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 93

خطابات شوری جلد سوم ۹۳ مشاورت ۱۹۴۴ء آتے رہیں گے۔اس طرح وہ ڈر جاتا رہے گا جو کہ آجکل بالعموم لوگوں کے دلوں میں قادیان کے متعلق پایا جاتا ہے اور جس کی بناء پر وہ یہاں آنے سے گھبراتے ہیں۔نمایاں کام کرنے والوں کے قائمقام میں اس وقت یہ بات بھی کہنی چاہتا ہوں کہ جماعت کے بعض لوگوں کے دلوں میں گھبراہٹ پیدا کرنے کی ضرورت و اہمیت پائی جاتی ہے کہ میر محمد اسحاق صاحب فوت ہو گئے ، فلاں فوت ہو گیا ، اب کیا ہوگا ، ایسا نہ ہو کہ جماعت کے کاموں کو کوئی نقصان پہنچ جائے۔یہ خیال جو بعض لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے ایسا ہے جسے جلد سے جلد اپنے دلوں سے دور کر دینا چاہئے اور سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اسی میں تھی کہ یہ وجود ہم سے جدا ہو جائے۔میں ابھی لاہور میں تھا کہ موجودہ انکشاف کے چند دن بعد ہی میں نے رویا میں دیکھا کہ میں قادیان میں اپنے گھر میں ہوں اور نیند سے اُٹھا ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نماز فجر کا وقت ہے اور نماز پڑھنے میں کچھ دیر ہو گئی ہے۔میں جلدی سے اٹھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے سے پہلے ہی نماز پڑھ لوں کیونکہ دیر ہو رہی ہے مگر جب دروازہ کھولا تو معلوم ہوا کہ ابھی اندھیرا ہے۔اُس وقت میں نے کہا کہ پہلے حوائج سے فارغ ہولوں پھر اطمینان سے نماز پڑھوں گا۔اسی حالت میں جب میں نے بیت الخلاء کی طرف جانے والا دروزاہ کھولا تو میں نے دیکھا کہ ساتھ کے کمرے میں ایک کٹہرہ کے سامنے میر محمد اسحاق صاحب نہایت صاف ستھرا لباس پہنے کھڑے ہیں۔مجھے دیکھتے ہی وہ کہنے لگے حضور ! دلیری کس کو کہتے ہیں؟ میں نے اُن سے کہا دلیری اس بات کا نام ہے کہ خدا کے سوا انسان کسی سے نہ ڈرے۔مگر معا میں نے کہا یہ تعریف مکمل نہیں اس لئے کہ حدیثوں میں آتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ گھر میں تشریف رکھتے تھے کہ آپ نے ایک شخص کی بُرائیاں بیان کرنی شروع کر دیں کہ وہ ایسا ہے، ایسا ہے۔ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہی شخص آگیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے اُٹھے آپ نے اُسے احترام سے بٹھایا اور محبت سے اُس کے ساتھ باتیں کیں۔جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے