خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 94

خطابات شوری جلد سوم ۹۴ مشاورت ۱۹۴۴ء IA عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ بھی ایسا کر لیتے ہیں کہ ایک طرف تو بعض لوگوں کے عیوب بیان کریں اور دوسری طرف جب وہ سامنے آجائیں تو اُن کی خاطر تواضع کریں؟ آپ نے فرمایا اے عائشہ ! بعض لوگوں کے شر سے ڈر کر میں ایسا کیا کرتا ہوں کے رویا میں میں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان الفاظ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ میں ڈرتا ہوں کوئی شر مجھے نہ پہنچ جائے بلکہ مطلب یہ تھا کہ اگر میں ایسے لوگوں سے خاطر مدارات کے ساتھ پیش نہ آؤں تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ اور زیادہ گمراہی میں نہ بڑھ جائیں اور اُن کی روحانیت کو مزید نقصان نہ پہنچ جائے۔اسی طرح مجھے ایک اور مثال یاد آئی اور میں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا اے عائشہ ! کعبہ جب بنایا گیا ہے اُس وقت تیری قوم کے پاس سامان کم ہو گیا تھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کعبہ کی چار دیواری جتنی وسیع ہونی چاہئے تھی اتنی نہیں بلکہ اُس سے کچھ کم ہے۔میں چاہتا تھا کہ کعبہ کو اس کی اصل بنیادوں پر لے آؤں مگر میں ڈرتا ہوں کہ تیری قوم حدیث العہد پالا سلام ہے یعنی نئی نئی اسلام لائی ہے۔اگر میں نے ایسا کیا تو اُس کے ایمان میں تزلزل واقع ہو جائے گا یہاں بھی آپ نے ڈرنے کا لفظ استعمال فرمایا مگر اس جگہ بھی اس کے یہی معنے ہیں کہ میں ڈرتا ہوں تیری قوم کے ایمان کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔پس میں نے اُن سے کہا جو تعریف میں نے پہلے کی ہے وہ نامکمل ہے۔اب میں اس کی مکمل تعریف یہ کرتا ہوں کہ دلیری یہ ہے که انسان خدا کے سوا کسی پر توکل نہ کرے۔اسی طرح میر محمد اسحاق صاحب کی وفات سے پہلے جب میں قادیان آ کر دوبارہ لاہور گیا ہوا تھا تو میں نے ایک رؤیا دیکھا جو اُسی دن میں نے لاہور کے بعض دوستوں کو سُنا دیا۔وہ بدھ کا دن تھا دوسرے دن جمعرات کو ہم واپس آگئے اور اُسی شام کو میر محمد اسحاق صاحب بیمار ہو کر دوسرے دن وفات پاگئے۔اُس دن میں کھانا کھا کر لیٹا ہی تھا کہ نیم غنودگی کی سی کیفیت مجھ پر طاری ہو گئی۔اور میں نے دیکھا کہ حضرت (اماں جان ) کہہ رہی ہیں:۔,, تالے کیوں نہ کھول لئے“