خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 92
خطابات شوری جلد سوم ۹۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء ذہن میں ہے اگر ہم اُس میں کامیاب ہو گئے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان کے علمی طبقہ پر ہماری جماعت کا بہت گہرا اور نمایاں اثر ہوگا۔اور وہ اس بات پر مجبور ہوگا کہ ہماری جماعت کے حالات پر غور کرے اور بار بار قادیان آتا رہے۔یہ انسٹی ٹیوٹ تمام ہندوستان میں اس لحاظ سے بے مثال ہو گی کہ اب تک مسلمان اس پہلو سے بالکل غافل رہے ہیں اور کسی ایک جگہ بھی کوئی ایسا ادارہ قائم نہیں جو مسلمانوں کا ہو اور جس میں سائنس کی تحقیق اور اس کے تجربات کئے جاتے ہوں ، نئی ایجادات ملک کے سامنے پیش کی جاتی ہوں یا اسلام پر سائنس کی طرف سے جو اعتراضات کئے جاتے ہیں اُن کا سائنس کی روشنی میں ہی رڈ کیا جا تا ہو۔بنگال میں ڈاکٹر بوس کی ایک انسٹیٹیوٹ ہے۔اسی طرح الہ آباد یا بنارس یونیورسٹی کی طرف سے بھی کام ہو رہا ہے۔بنگلور میں میسور گورنمنٹ کی طرف سے ایک بڑی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ہے، دہلی میں مرکزی گورنمنٹ کی انسٹی ٹیوٹ ہے مگر یہ سب ادارے یا گورنمنٹ کی طرف سے جاری ہیں یا یونیورسٹیوں کی طرف سے ہندوؤں کی طرف سے ہیں۔مسلمانوں کی طرف سے کوئی ادارہ قائم نہیں تھا جس کی وجہ سے ہمیشہ ہی میرے دل میں خلش رہتی تھی آخر اللہ تعالیٰ نے ایک احمدی کو جو سائنس کی اعلیٰ تعلیم رکھتے ہیں اس بات کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کریں۔چنانچہ اب اس کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔بعض اور نوجوان بھی تیار کئے جا رہے ہیں جو دو تین سال تک انشاء اللہ تیار ہو جائیں گے۔پہلے سال اس پر ۳۰،۲۵ ہزار روپیہ خرچ آئے گا جو تحریک جدید سے ہی لے لیا گیا ہے مگر آئندہ چونکہ اس کام کو وسیع کیا جائے گا اس لئے دس بارہ ایکٹر زمین بھی لے لی جائے گی جس میں کارخانے قائم کئے جائیں گے۔ممکن ہے اُس وقت تک ہمیں آمد بھی شروع ہو جائے اور چندہ کی ضرورت نہ رہے۔یا اگر آمد نہ ہو تو چندہ مانگنا پڑے لیکن اس سال چندہ کی ضرورت نہیں ہے۔عمارت اور مشینری وغیرہ کے لئے تحریک جدید سے ہی روپیہ لے لیا گیا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ علمی اور سیاسی طبقہ پر بہت گہرا اثر پیدا کرے گی۔اگر اس انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بعض نئی ایجادات ہوئیں تو علمی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ قادیان آنا جانا شروع کر دیں گے۔گورنمنٹ کے بڑے بڑے عہدہ دار بھی آنے جانے لگ جائیں گے اور مختلف کالجوں کے پروفیسر وغیرہ بھی