خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 719
۷۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء خطابات شوری جلد دوم نہ کرنے کی وجہ سے کیوں قابلِ اعتراض نہیں سمجھی جاسکتی۔جو کام ضروری ہیں اور جن کے بغیر گزارہ ہی نہیں ہو سکتا وہ تو بے شک کرو مگر یہ نہ ہو کہ روپیہ پس انداز کرنے میں غفلت سے کام لو۔یہ ایک اہم کام ہے جس کی طرف توجہ رکھنا نہایت ضروری ہے۔اگر ہم اس کی اہمیت کو نظر انداز کر دیں گے اور غیر اہم کاموں پر اپنا روپیہ ضائع کر دیں گے تو دین کے ان مہتم بالشان کاموں میں جو ہمارے پیش نظر میں سخت حرج واقع ہوگا اور ہم خدا تعالیٰ کے حضور اس کے متعلق جواب دہ ہوں گے۔پس میرا مشورہ اس وقت یہی ہے کہ روپیہ پس انداز کرو اور ریز روفنڈ قائم کرو۔چندے بڑھانے کی تلقین اور اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ گو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری آمد گزشتہ سالوں کی نسبت بہت بڑھ گئی ہے لیکن پھر بھی جس قدر آمد ہونی چاہئے ، وہ میرے نزدیک نہیں ہو رہی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ فوج میں اعلیٰ عہدوں پر متعین ہیں وہ با قاعدگی کے ساتھ اپنے چندے نہیں بھجواتے۔کنگز کمیشن میں ہماری جماعت کے قریباً سوا سو نوجوان ہیں مگر میرے نزدیک اُن میں سے صرف پندرہ ہیں چندہ دیتے ہیں باقی چندہ نہیں دیتے اور یہ ایک بہت بڑا نقص ہے جس کا ازالہ ہونا چاہئے۔کنگز کمیشن والوں کی اوسط آمدنی ۶۰۔۷۰ ہزار روپیہ ماہوار ہے اور اگر وہ باقاعدگی سے چندہ ادا کریں تو ان کی طرف سے چار ہزار روپیہ ماہوار آنا چاہئے۔بالفاظ دیگر ہمیں ۴۸ ہزار روپیہ سالانہ کی آمد صرف اُن نو جوانوں کے ذریعہ ہو سکتی ہے جو فوج میں اعلیٰ عہدوں پر ملازم ہیں۔پھر جو نو جوان فوج کے دوسرے محکموں میں گئے ہوئے ہیں اگر اُن سب کی آمد کا اندازہ لگایا جائے تو میرے نزدیک اتنی ہی سالانہ آمد اُن کی طرف سے ہونی چاہئے۔اس وقت تک ہماری جماعت کی طرف سے قربیاً دس ہزار آدمی فوج میں بھرتی کرائے جاچکے ہیں۔کئی کلرکوں میں ہیں، کئی ٹیکنیکل لائنوں میں ہیں اور کئی نیوی وغیرہ میں۔اِن سب کی آمد کا اندازہ لگا کر اگر چندے کا حساب کیا جائے تو میرے نزدیک صرف فوجیوں سے ہمیں ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالا نہ مل سکتا ہے مگر چونکہ ابھی اِس قدرآمد نہیں اس لئے میں جماعت کے دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر تمام نو جوانوں کو تحریک کریں کہ وہ با قاعدگی کے ساتھ مرکز میں اپنا چندہ ارسال کیا کریں۔