خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 718 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 718

خطابات شوری جلد دوم ZIA مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء ریز رو فنڈ بھی قائم کرو تا کہ اس کے ذریعہ سے اس قسم کی ضروریات پوری ہوسکیں۔میرے نزدیک ان دنوں میں چھ لاکھ سے دس لاکھ روپیہ تک ریز روفنڈ میں جمع ہوسکتا ہے اور یہ ریز رو فنڈ اُن تنگی کے سالوں کے لئے جو درمیان میں آتے رہتے ہیں، ہمارے لئے ذخیرہ کا کام دے سکتا ہے۔سورہ یوسف میں یہی نسخہ بتایا گیا ہے کہ اچھے سالوں کی فصل کو بُرے سالوں کے لئے محفوظ رکھو اور یہ وہ نسخہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایک رؤیا کے ذریعہ بادشاہ مصر کو بتایا۔ہرکشن داس کا مشورہ نہیں کہ انسان کہے اگر میں نے اس پر عمل نہ کیا تو کیا ہو گیا۔روپیہ جمع کرنے کا فائدہ بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ مال پس انداز کرنا دنیا داری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اُن کا یہ نظریہ درست ہے تو خدا تعالیٰ نے فرعونِ مصر کو یہ رویا کیوں دکھایا اور پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے اس خواب کی جو تعبیر بتائی اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کیوں فرماتا ہے کہ ہم نے خود یوسف علیہ السلام کو تعبیر کا علم سکھایا تھا۔گویا جس طرح یہ خواب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اُسی طرح اس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس خواب کے ذریعہ ہمیں بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ فراخی کے ایام میں اپنے لئے مال پس انداز کیا کرو تا کہ تنگی کے ایام میں وہ تمہارے کام آوے یہ کسی ہرکشن داس کا مشورہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا مشورہ ہے اور خدا تعالیٰ کے مشورہ کو رڈ کرنا کسی دیندار کا کام نہیں ہو سکتا۔پس یہ بالکل غلط خیال ہے کہ مال کو پس انداز کرنا دنیا داری ہے۔مال کو دنیا کے لئے پس انداز کرنا بیشک دنیا داری ہے لیکن دین کے لئے پس انداز کرنا ہرگز دنیا داری نہیں۔کیونکہ ایسا انسان اگر ایک طرف مال جمع کرتا ہے تو دوسری طرف اُسی مال کو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے خرچ کر کے ثابت کر دیتا ہے کہ اُس نے دنیا کے لئے مال جمع نہیں کیا تھا بلکہ خدا تعالیٰ کے لئے مال جمع کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ارشاد سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔آپ نے ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کو جب کہ آپ جموں میں ملازم تھے لکھا کہ میں نے سنا ہے آپ سارا روپیہ صرف کر دیا کرتے ہیں ، یہ درست نہیں۔اپنی تنخواہ کا چوتھا حصہ ہر مہینہ جمع کیا کریں تا کہ وہ وقت پر دین کے کام آ سکے یا اگر افراد کو یہ مشورہ دیا جا سکتا ہے تو جماعت کے لئے یہ مشورہ کیوں ضروری نہیں۔اور اگر ایک فرد روپیہ جمع نہ کرنے کی وجہ سے قابل نصیحت سمجھا جا سکتا ہے تو جماعت روپیہ جمع