خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 720
خطابات شوری جلد دوم ۷۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء ماں باپ اور بھائی بہنوں کا بھی فرض ہے کہ وہ انہیں توجہ دلائیں کہ خدا تعالیٰ نے جب تمہیں رزق دیا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اب دین کی خدمت کرو اور ہر مہینے التزام اور با قاعدگی کے ساتھ چندے بھجوا ؤ۔اسی طرح ماں باپ کو بھی چاہئے کہ وہ ایسے نو جوانوں کے پتے دفتر میں نوٹ کرا دیں تا کہ دفتر کی طرف سے بھی اُنہیں خطوط کے ذریعہ توجہ دلائی جاتی رہے۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ ہیں جن کی آمد نیاں پہلے سے بہت بڑھ گئی ہیں۔تاجروں کو مالی قربانی کی خاص تلقین تاجر پیشہ لوگوں کی آمد نیاں خصوصیت کے ساتھ زیادہ ہو گئی ہیں مگر ان کے چندے اُسی حالت پر قائم ہیں جس حالت پر جنگ سے پہلے تھے۔اگر پہلے کوئی تاجر پانچ روپے ماہوار چندہ دیا کرتا تھا تو اب بھی وہ پانچ روپے ماہوار ہی چندہ دیتا ہے۔اگر چہ اس کی آمد دس ہزار روپیہ ہوگئی ہو۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاجروں میں دین کی خدمت کا کوئی احساس ہی نہیں رہا اور انہیں روپیہ سے اتنی محبت ہو گئی ہے کہ وہ اسے خدا تعالیٰ کے لئے خرچ کرنا پسند بھی نہیں کرتے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے خدا تعالیٰ کے دین کے لئے کچھ خرچ کیا تو روپیہ ختم ہو جائے گا۔پس تاجروں کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہئے اور اس نقص کا ازالہ کرنا چاہئے۔میں جیسا کہ پہلے بھی ایک دفعہ بیان کر چکا ہوں صرف ملازم پیشہ لوگوں کی جماعت ہی اس وقت حقیقی اخلاص دکھا رہی اور دین کے لئے کچی قربانی کر رہی ہے۔زمیندار قربانی میں دوسرے درجہ پر ہیں اور تاجر سب سے نچلے درجہ میں ہیں۔تاجر کے پاس خواہ کس قدر روپیہ آجائے وہ ہمیشہ اس وہم میں مبتلا رہتا ہے کہ اب تو روپیہ آ گیا خبر نہیں کل بھی آئے گا یا نہیں اور اس طرح نہ صرف ثواب سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ اُس ترقی سے بھی محروم ہو جاتا ہے جو خدا تعالیٰ اُسے قربانی کی صورت میں عطا کرتا ہے۔پس تاجروں کو خصوصیت کے ساتھ اپنے اس نقص کی اصلاح کرنی چاہئے۔میں سمجھتا ہوں اگر آمد کی تشخیص پر زور دیا جائے اور جو لوگ نادہند یا چندہ دینے میں سُست ہیں اُن کی نگرانی کی جائے اور ماں باپ اور دوسرے رشتہ دار اُنہیں بار بار لکھیں تو ہماری آمد چندہ عام اور حصہ آمد کی چار لاکھ سے بڑھ کر چھ لاکھ روپیہ تک پہنچ جائے۔اس میں سے ڈیڑھ لاکھ وہ قرضہ اُتار دیں اور