خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 717 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 717

خطابات شوری جلد دوم 212 مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء کر اسے پلا ضرورت خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہو جانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ کی تنگی کے بعد ہمارے لئے یہ فراخی کا موقع پیدا کیا ہے۔ہم پہلے تین مبلغ ہر سال رکھا کرتے تھے مگر مالی تنگی کی وجہ سے ایک لمبے عرصہ تک ہم ایک مبلغ بھی نہ رکھ سکے۔اب جب کہ خدا نے تمہیں مال دیا ہے تم اپنے دانتوں تلے زبان دبا کر بیٹھ جاؤ اور کوشش کرو کہ اس روپیہ سے تمہارا قرض اُتر جائے اور ریز رو فنڈ قائم ہو جائے۔ریز رو فنڈ قائم کرنا ہماری اہم ترین ضروریات میں سے ہے۔اگر ہم چند سالوں میں کئی لاکھ روپیہ کا ایک ریز روفنڈ قائم کر دیں تو سلسلہ کی کئی ضرورتیں اس فنڈ سے پوری ہوسکتی ہیں۔قادیان میں کالج کی ضرورت اس وقت ہمارے سامنے ایک نہایت ضروری مسئلہ قادیان میں کالج قائم کرنا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ہمارے لڑکے جب یہاں سے تعلیم حاصل کر کے بیرونی کالجوں میں داخل ہوتے ہیں تو اُن کی دینی حالت سخت ناقص ہو جاتی ہے لیکن اگر اپنا کالج گھل جائے تو تمام لڑکے خدا تعالیٰ کے فضل سے محفوظ ہو جائیں یا ایک غالب اکثریت محفوظ ہو جائے اور شاذ و نادر کے طور پر کوئی خراب ہو۔مگر اب یہ حالت ہے کہ جب ہمارے لڑکے یہاں سے دسویں جماعت پاس کر کے باہر جاتے ہیں تو فوراً رپورٹیں آنی شروع ہو جاتی ہیں کہ قادیان سے فلاں لڑکا پڑھ کر آیا تھا مگر وہ روزانہ سینما دیکھنے کے لئے جاتا ہے یا فلاں لڑکا روزانہ داڑھی منڈوا تا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ نگرانی کے بعد لڑ کے یہاں سے ایسی کم عمری کی حالت میں جاتے ہیں کہ بیرونی اثرات کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اور جیسے دریا کا بند ٹوٹ جاتا ہے اسی طرح نگرانی ختم ہوتے ہی اُن کے نفس کا بند ٹوٹ جاتا ہے اور وہ دنیا میں ملوث ہو جاتے ہیں۔پس میرے نزدیک لڑکوں کی خرابی کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اُن کی بے وقت نگرانی ختم ہو جاتی ہے اور ان کی طبیعت میں ایسا رد عمل پیدا ہو جاتا ہے کہ اُن کی حالت پہلے سے بدتر ہو جاتی ہے۔اگر یہاں سے لڑکا بی۔اے پاس کر کے جائے تو کبھی اس کی دینی حالت خراب نہ ہو۔پس یہاں کالج کا کھلنا اہم ضروریات میں سے ہے مگر اس کے لئے سرمایہ کی ضرورت ہے۔جب تک کافی سرمایہ نہ ہو کا لج نہیں گھل سکتا اور یہی وقت سرمایہ جمع کرنے کا ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے تمہیں موقع دیا ہے کہ تم روپیہ جمع کرو اور اس سے نہ صرف قرض اُتارو بلکہ