خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 716 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 716

خطابات شوری جلد دوم 217 مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء جب میں نے کہا تھا اگر اُس وقت کچے مکان بنا لئے جاتے تو چھ سات سو روپیہ میں تمام کام ہو جاتا۔ہائی سکول میں پاخانہ کی ضرورت کے متعلق جو سوال اٹھایا گیا ہے وہ بھی میرے نزد یک حیرت انگیز ہے۔یہ تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ جنگ آئی تو چیزیں مہنگی ہو گئیں مگر یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ جنگ میں لڑکوں کو پیشاب زیادہ آنا شروع ہو گیا ہے۔آخر وجہ کیا ہے کہ یہ ضرورت پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی اور اب محسوس ہو رہی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ چونکہ روپیہ زیادہ آنا شروع ہو گیا ہے، اس لئے جی چاہتا ہے کہ اسے کسی جگہ خرچ کیا جائے۔میں یہ تو مان سکتا ہوں کہ سکول کے کمرے کم ہیں اور لڑ کے زیادہ ہیں اور اس کی وجہ بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ جنگ کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اپنے لڑ کے تعلیم کے لئے قادیان بھجوا دیئے ہیں۔پہلے آٹھ سولڑ کے یہاں ہوا کرتے تھے مگر اب ۱۳ سولڑ کے پڑھتے ہیں اور قریباً ہر جماعت میں سیکشن کھولے گئے ہیں مگر یہ تو نہیں کہ جنگ میں پیشاب زیادہ آنا شروع ہو جاتا ہے کہ اب کہا جاتا ہے اس کے متعلق انتظام کرنا چاہئے۔آخر پہلے کئی سال کس طرح گزارہ ہوتا رہا؟ جس طرح پہلے گزارہ ہوتا رہا ہے اسی طرح اب بھی ہو سکتا ہے مگر اب اس پر زیادہ زور دینا اور کہنا کہ اس کے بغیر چارہ ہی نہیں بتاتا ہے کہ چونکہ روپیہ زیادہ آنا شروع ہو گیا ہے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ اسے کسی نہ کسی رنگ میں ضرور خرچ کیا جائے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ایک زمیندار میرے پاس آیا اور اس نے کہا مولوی صاحب! مجھے مشورہ دیں۔اس وقت آٹھ سو روپیہ میرے پاس ہے میں اسے کہاں خرچ کروں؟ آپ نے فرمایا کوئی مسجد بنوا دو۔وہ کہنے لگا کوئی اور بات بتائیں۔فرماتے تھے میں نے کہا اچھا کہیں کنواں کھدوا دو۔اُس کی اس سے بھی تسلی نہ ہوئی اور کہنے لگا کوئی اور کام کی بات بتائیں۔آخر میں نے اُسے بڑی بڑی نیک باتیں بتائیں اور کہا کہ تم یہ روپیہ اس اس طرح خرچ کرو تو تمہیں بڑا ثواب ملے گا مگر وہ خاموش رہا۔آخر میں نے اُس سے پوچھا کہ تم بتاؤ تمہاری اپنی کیا رائے ہے؟ وہ کہنے لگا فلاں شخص نے بڑا اچھا مشورہ دیا ہے۔اُس نے کہا ہے کہ فلاں خاندان سے تمہاری عداوت ہے، تم اُس پر کوئی مقدمہ چلا دو اور اِس روپیہ سے اُسے سزا دلوانے کی کوشش کرو۔تو ہمیں عقل مند بننا چاہئے ، روپیہ کو دیکھ