خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 58

خطابات شوری جلد دوم ۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء ایک ایسا کام جو ہم شروع کر چکے ہیں اُس کے لئے یہ کوشش کرنی چاہئے کہ اس کی اصلاح کریں۔لیکن جو شروع نہیں کیا اُس کے لئے یہ چاہئے کہ ضروری سامان جمع کریں اور پھر کام شروع کریں۔ایک دوست نے کہا ہے کہ مرد سے اگر غلطی ہو جائے تو اُس کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے مگر عورت سے غلطی ہو جائے تو اُس کی توبہ قبول نہیں کی جاتی اُس کی بھی قبول کرنی چاہئے۔یہ بات ایک موقع کے لحاظ سے بالکل صحیح ہے مگر یہاں یہ موقع نہیں۔اصول صحیح ہے اور عام طریق یہی ہے کہ کسی مرد سے اگر لغزش ہو تو اُس کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے لیکن عورت سے کوئی غلطی ہو تو اُسکی توبہ قبول نہیں کی جاتی۔مگر یہاں تو اس اصل کا یہ مطلب ہوگا کہ مرد جب گڑھے میں گر چکے ہیں تو عورتوں کو بھی کیوں نہ اس میں دھگا دے کر گرا دیا جائے مگر کوئی عقلمند یہ پسند نہیں کرے گا کہ ہم عورتوں کو بھی انہی مشکلات میں سے گزاریں جن میں سے مرد گزر رہے ہیں۔یہ بات بار بار دہرائی گئی ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ زنانہ بورڈنگ کی ذمہ داری سلسلہ پر عائد ہوگی۔یہ ٹھیک ہے کہ جو کام کوئی شخص کر سکتا ہے اُسے اگر اس لئے نہ کرے کہ لوگ اعتراض کریں گے تو یہ بڑی بُری بات ہے لیکن اگر کوئی شخص ایسا کام نہ کر سکتا ہو اور محض بہادری جتانے کے لئے کہے کہ میں کرلوں گا تو یہ بھی درست نہیں ہے۔ہر گھر میں دو چار دس بارہ بچے ہوتے ہیں۔ماں ان کی نگرانی کرتی ہے کسی کسی وقت باپ بھی شریک ہو جاتا ہے۔پھر بڑی بہن یا بڑا بھائی نگرانی کرتے ہیں۔مگر بورڈنگ میں کیا حالت ہوگی؟ یہ کہ ایک سو لڑکیوں پر چند نگران ہوں گے۔پس سلسلہ کی نگرانی اور ماں باپ کی نگرانی میں فرق ہے۔پھر اُستادوں کی نگرانی کی بنیاد حکومت پر ہوتی ہے اور ماں باپ کی نگرانی محبت پر ہوتی ہے۔ماں باپ کے گھر میں رہتی ہوئی لڑکیاں ایک ماحول قبول کر لیتی ہیں لیکن بورڈنگ میں قسم قسم کے ماحول میں پکی ہوئی لڑکیاں ہوتی ہیں جو بعض اوقات کئی قسم کے عیوب بھی اپنے ساتھ لاتی ہیں اور دوسری لڑکیاں ان عیوب میں جلد مبتلا ہو جاتی ہیں اس لحاظ سے بھی بورڈنگ کی زندگی خطرناک زندگی ہے اور یہ اُس وقت اختیار کی جاسکتی۔جب کوئی مجبوری ہو۔جیسا کہ لڑکوں کے متعلق ہے کہ چونکہ ان کو پڑھانا ضروری ہے کیونکہ ہے