خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 57

خطابات شوری جلد دوم ۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء بورڈنگ بنے تو کوئی عورت کام کے لئے نوکر نہ ہو بلکہ سب لڑکیاں اپنے ہاتھ سے کام کریں۔میں تحریک جدید کے بورڈنگ ہاؤس کو اِس طرف لا رہا ہوں کہ لڑکے کمائیں بھی خود اور جہاں تک ہو سکے اپنے ہاتھوں سے کام کریں۔اسی طرح عورتوں کے بورڈنگ میں عورتیں نوکر نہ ہوں۔ایک تو خود کام نہ کرنے کی وجہ سے لڑکیاں کام نہیں سیکھ سکتیں دوسرے نوکر عورتوں کے ذریعہ بڑی خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔۱۲،۱۰ روپیہ ماہوار کی نوکرانی کو چار پانچ روپے دے کر بدفطرت لوگ پیغام رساں بنا سکتے ہیں۔میرا خیال یہ ہے کہ لڑکیوں سے دور فاصلہ پر پردہ کے پیچھے بوڑھے مرد ہوں۔اُن سے باہر کی چیزیں اُستانیاں پکڑ لیں اور آگے خو دلڑ کیوں تک پہنچادیں۔سید سمیع اللہ صاحب نے اگر چہ بعض الفاظ بے احتیاطی کے استعمال کئے ہیں لیکن اس بات سے خوشی ہوئی کہ ان کی تقریر کا رنگ سید حامد شاہ صاحب مرحوم سے ملتا تھا اور جذباتی رنگ تھا۔انہوں نے یہ درست کہا ہے کہ بورڈنگ کی تعلیم غیر فطری ہے اور یہ مجبوری کی حالت میں ہی اختیار کی جاسکتی ہے اس لئے میں نے جو شرائط لکھے اُن میں یہ بھی تھا کہ بورڈنگ میں کسی لڑکی کو اُسی وقت لیا جائے جب دیکھا جائے کہ ماں اُس کی تربیت نہیں کر سکتی۔بے شک بورڈنگوں میں بعض فوائد بھی ہیں مگر اس میں شبہ نہیں کہ نقائص بھی ہیں اور جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ماں باپ کی محبتیں پیدا کی ہیں، ان کو قربان کرنا پڑتا ہے۔پس بورڈنگ کی رہائش غیر طبعی ہے اور اُسی وقت اس کی اجازت دینی چاہئے جبکہ اس کے بغیر کام نہ چلے۔بے شک بچہ کے لئے ماں کا دودھ مقدم ہوتا ہے مگر جب نہ ملے تو چوسنیاں لینی ہی پڑتی ہیں۔اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ جب ماں کا دودھ نہ ہو اُس وقت بچہ کو مار ڈالو تو یہ اُس کی بیہودگی ہے۔غرض مجبوری کی حالت میں بورڈنگ میں داخل کرنا ہی پڑتا ہے۔میں موجودہ حالات میں بورڈنگ کے بوجھ کا اُٹھانا نقصان دہ سمجھتا ہوں ، پھر اتنا روپیہ بھی نہیں ہے۔یہ اندازہ جو لگایا گیا ہے غلط ہے۔کم از کم پانچ سو روپیہ ماہوار سے کم پرلڑکیوں کے بورڈنگ کا چلنا مشکل ہے کیونکہ لڑکیوں کی ضروریات کے لحاظ سے عملہ زیادہ رکھنا پڑے گا۔ایک دوست نے کہا ہے کہ جب نقائص ہیں موجودہ نصاب تعلیم میں تو کیوں نہ سکول کو بھی بند کر دیا جائے۔اس کا صحیح جواب ملک عبدالرحمن صاحب خادم نے دے دیا ہے کہ