خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 56

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء ہی ایکڑ زمین میں لگاتا ہے جتنے سنبھال سکے اس طرح ہمیں بھی کرنا چاہئے۔جب ظاہری تربیت سکول میں کرنے میں ہم کامیاب نہیں ہو سکے تو اسی سلسلہ میں بورڈنگ کا کام گلے ڈال لینے کے یہ معنی ہیں کہ نہ ہم پہلا کام کر سکیں اور نہ نیا۔اور ہماری مثال اُس ہر دلعزیز کی بن جائے جو دریا سے پار اُتارنے کے لئے تین آدمی لے گیا اور تینوں ڈوب گئے۔آخر پہلے ۲۰،۱۵ سال اگر گزارہ ہوتا رہا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ۳ ۴ سال اور انتظار نہ کریں۔قابل اُستانیاں پیدا کیونکر ہوں، نصاب تعلیم کی کس طرح اصلاح ہو جو ہمارے لئے مفید ہو۔ہر پہلو کے لحاظ سے سختی کے ساتھ نگرانی کی جائے۔جو مرد پڑھائے لڑکیاں اُس سے پردہ میں بیٹھیں۔میں اس کا قائل نہیں ہوں کہ مرد سکول کے احاطہ میں نہ جائیں بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ دو تین مل کر جائیں اور ایک پڑھانے کے لئے جا سکتا ہے۔مگر ناظر اعلیٰ بھی اگر جائے تو دو تین کو ساتھ لے کر جائے۔ناظروں کا اس طرح جانا ضروری ہے ہاں اکیلے جانا منع ہے۔ناظروں کا نہ جانا مصر ثابت ہوا ہے اور اس کا نقصان پہنچا ہے۔پہلے نصاب پر زور دینا چاہئے۔پھر لڑکیوں کے سامنے لیکچر دینے کا انتظام کیا جائے۔انہیں اسلام کی اہمیت بتائی جائے ، اسلام کی تعلیم کی حکمتیں سکھائی جائیں ، اس کے بعد جب اچھی تعلیم یافتہ جو اسلامی تعلیم کی پوری طرح پابند ہوں، دین کی تعلیم جانتی ہوں ،سہیل پنا ڈالنے کی عادی نہ ہوں ، لڑکیوں میں وقار کے ساتھ کام کریں ایسی اُستانیاں مل جائیں تو اُن کو مقرر کر دیں گے مگر اس کے لئے معمولی اخراجات کافی نہیں بہت بڑے اخراجات کی ضرورت ہوگی۔یہ یقینی بات ہے کہ بورڈنگوں میں بعض خرابیاں ہیں اور ان کا دور کرنا ہمارا مقصد ہے۔بورڈنگ میں رہنے والوں کے دل میں ماں باپ کی محبت نہیں پیدا ہوتی ،صرف سزا کا ڈر پیدا ہوتا ہے۔یہ کہنا آسان ہے کہ سپرنٹنڈنٹ بورڈروں سے ایسی محبت کرے جیسی ماں باپ اپنے بچوں سے کرتے ہیں مگر کیا ایسا ہوتا بھی ہے۔کوشش بھی کی جاتی ہے، مگر غیر طبعی محبت کیونکر طبعی محبت بن سکتی ہے۔جو بچہ ماں باپ کے اثر کے نیچے تعلیم حاصل کرے گا، وہ یقیناً اس سے بہتر تربیت پاسکے گا جو بورڈنگ میں رہتا ہے مگر بعض باتیں ایسی ہیں جن کا علاج ہوسکتا ہے۔بورڈنگ جاری ہونے کے بعد کام کے متعلق میں نے یہ نوٹ کیا ہوا تھا کہ جب