خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 704
خطابات شوری جلد دوم ۷۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء صدر انجمن احمدیہ کے بجٹ کی تیاری اس سال بجٹ حضور کی ہدایات کے مطابق تیار نہیں کیا گیا تھا اس لئے سب کمیٹی بیت المال نے یہ تجویز منظور کی کہ ناظر صاحب بیت المال حضور کی ہدایات کے مطابق جدید بجٹ مرتب کر کے منظوری کے لئے پیش کریں۔سب کمیٹی کی یہ رپورٹ مجلس مشاورت میں پیش ہوئی تو حضور نے بجٹ کے سلسلہ میں ہدایات دیتے ہوئے فرمایا : - ناظر صاحب نے سب کمیٹی کی یہ تجویز پڑھ کر سنائی ہے کہ اس دفعہ بجٹ مجلس شوری میں پیش نہ ہو کیونکہ وہ میری ہدایات کے ماتحت مرتب نہیں کیا گیا اور اسی وجہ سے سب کمیٹی اس پر غور نہیں کر سکی اور نہ اس کے پاس اتنا وقت تھا کہ جدید بجٹ پر غور کر سکے۔اب ناظر صاحب بیت المال کو چاہئے کہ وہ اُن ہدایات کے مطابق جو پہلے سے موجود ہیں اور جن کے مطابق انہیں اس سال کا بجٹ بنانا چاہئے تھا ایک نیا بجٹ مرتب کر کے میرے سامنے پیش کر دیں۔میں اس کے متعلق بعد میں مناسب غور کے بعد فیصلہ کر دوں گا۔یوں تو جہاں تک کام کے صحیح طو پر چلنے کا سوال ہے میں اس بات میں کوئی حرج نہیں دیکھتا کہ اس دفعہ ایسا ہی ہو مگر ہماری بجٹ کو پیش کرنے سے جو غرض ہوتی ہے کہ جماعت کے تمام نمائندگان سے اس کے متعلق مشورہ لیا جا سکے وہ اس طرح پوری نہیں ہوتی اور میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ دوسرا سال ہے۔جب کہ ہمیں اپنے بجٹ کو نمائندگان کے سامنے پیش کرنے کی بجائے اس کے لئے ایک سب کمیٹی مقرر کرنی پڑی ہے اور اس کے مشورہ سے بجٹ کا فیصلہ کرنا پڑا ہے۔چونکہ اس میں صدر انجمن احمدیہ کی کوتاہی کا بہت کچھ دخل ہے اس لئے میں اس وجہ سے کہ صدر انجمن احمدیہ نے اپنی نگرانی کی ضرورت اور اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا آئندہ سال ۴۵ ۱۹۴۴ء بجٹ بنانے کا اختیار چھین کر محاسبہ کمیٹی بصدارت ناظر بیت المال کے سپر د کرتا ہوں ، اُن کا فرض ہوگا کہ وہ آئندہ سال خود ہی بجٹ بنا ئیں اور پھر حسب قواعد اس بجٹ کو میرے سامنے پیش کر کے میری پہلی اور سرسری نظر کے بعد مجلس شوری میں پیش کرنے کے لئے شائع کر دیں۔مگر یہ ضروری ہوگا کہ اس بارہ میں جو قواعد مقرر ہیں اُن کی پوری پابندی کی جائے۔ہمارے ہاں قاعدہ یہ ہے کہ ہر مالی سال کے ساتویں مہینے میں ہر صیغہ سے بجٹ آمد و خرچ تیار ہو کر کمیٹی محاسبہ و مال میں پہنچ جانے چاہئیں۔اسی طرح