خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 703 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 703

۷۰۳ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء چندہ کی وصولی اس سال سو فی صدی ہو گی تو انسانی غیرت اور حمیت جوش میں آجاتی ہے اور تمام جماعت میں ایک بیداری پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہمارا نمائندہ ذلیل ہو جائے گا اور یہ احساس ایسی چیز ہے جو انسان کو بڑی سے بڑی قربانی کرنے پر تیار کر دیتا ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کے معاملات کو دیکھیں تو اس احساس سے وہاں بھی فائدہ ہو جاتا ہے۔دعا کے نازک ترین مواقع پر جب اللہ تعالیٰ کے انبیاء یا اس کے خلفاء اور اولیاء اُس کے حضور گر کر عاجزی کے ساتھ کہتے ہیں کہ یا اللہ ! اب ہمارے بس کی بات نہیں رہی۔تُو نے خود ہمیں اس کام کے لئے کھڑا کیا ہے، اب ہم تیری مرضی پر ہیں۔تیرا جی چاہے تو ہمیں لوگوں کی نگاہ میں ذلیل کر دے اور اگر تیرا جی چاہے تو اپنے نام کی لاج رکھ اور ہمیں ذلیل ہونے سے بچالے۔جب اس طرح ایک طرف اللہ تعالیٰ کے رحم کو جوش میں لایا جاتا ہے دوسری طرف اُس کی غیرت کو حرکت میں لایا جاتا ہے تو اُس وقت کی دعائیں ایسی تیر بہدف بن جاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ زمین اور آسمان کی قوتوں کو ہلا دیتا ہے اور وہ کام جسے انسان بالکل ناممکن سمجھتا ہے ممکن ہو جاتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ اگر کتے کے آگے لیٹ جاؤ تو وہ بھی حملہ نہیں کرتا۔پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اپنے جیسے انسانوں کے سامنے انسان ایک معاملہ پورے زور کے ساتھ رکھے اور وہ ان پر توجہ نہ کریں۔جب وہ کہے گا کہ تم نے مجھے اپنا نمائندہ بنا کر قادیان بھیجا تھا اب بتاؤ تم میں یہ نستی کب تک رہے گی۔میں تو یہ وعدہ کر کے آیا ہوں کہ جماعت اس قدر چندہ ضرور دے گی۔پھر کیا آپ لوگ مجھے ذلیل کرنا چاہتے ہیں کہ چندوں کی ادائیگی میں مستی سے کام لیتے ہیں۔جب اس طرح تحریک کی جائے تو جماعت میں بہت حد تک بیداری ہو جاتی اور اس کی شستی اور غفلت دُور ہو جاتی ہے۔پس یہاں سے واپس جا کر اپنی اپنی جماعت کو تمام واقعات سنانے چاہئیں۔تین چار سال متواتر میں اس طرف توجہ دلاتا رہا ہوں۔اگر نمائندگان کی طرف سے کچھ غفلت ہوئی ہو تو انہیں اب اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔“