خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 705
خطابات شوری جلد دوم ۷۰۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء نظارت بیت المال کی طرف سے اپنے صیغہ کے بجٹ آمد وخرچ کے علاوہ صدر انجمن احمدیہ کی مجموعی آمد کا تفصیلی بجٹ بھی اُسی ماہ میں تیار ہو کر پہنچ جانا چاہئے۔( قواعد وضوابط صدر انجمن احمدیہ صفحہ سے قاعدہ نمبر ۲۵۹) اس قاعدہ کی تمام صیغہ جات کے افسروں اور ناظروں کو پابندی کرنی چاہئے اور ان سب کا فرض ہے کہ وہ نومبر میں اپنے اپنے صیغہ جات کا بجٹ محاسبہ کمیٹی بصدارت ناظر بیت المال کے پاس بھیج دیں۔اگر اس قاعدہ کے مطابق صیغہ جات کی طرف سے نومبر میں بجٹ نہ آئے یا کسی ایک یا ایک سے زائد صیغہ جات کا بجٹ نہ آئے تو میں محاسبہ کمیٹی کو اختیار دیتا ہوں کہ وہ اپنی مرضی سے اُن کے بجٹ تجویز کر دے خواہ اس میں کسی ناظر کی غفلت کا دخل ہو یا کسی افسر کی غفلت کا۔میں متواتر سالہا سال سے دیکھ رہا ہوں کہ ناظر اپنے اپنے صیغہ کے بجٹ وقت پر نہیں بھیجتے اور اس وجہ سے محاسبہ کمیٹی بھی اس قانون کی پابندی نہیں کر سکتی کہ وہ بھی ” مالی سال کے نویں ماہ میں آمد و خرچ کا تفصیلی بجٹ مجلس میں پیش کرنے کے لئے اپنی رائے کے ساتھ دفتر ناظر اعلیٰ میں ارسال کر دے۔اگر وقت پر صیغہ جات کی طرف سے محاسبہ کمیٹی کے پاس بجٹ پہنچ جایا کریں تو محاسبہ کمیٹی آسانی کے ساتھ وقت کے اندر اس بارہ میں اپنی رائے صدر انجمن احمدیہ کے سامنے پیش کر سکتی ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ ان قواعد پر عمل نہیں ہو رہا۔اس دفعہ ہی میرے پاس نظارت بیت المال کی طرف سے رپورٹ کی گئی ہے کہ قواعد کے مطابق تمام صیغہ جات کے بجٹ نومبر کے آخر تک دفتر میں پہنچ جانے چاہئے تھے لیکن باوجود بار بار کی یاد دہانیوں کے 9 جنوری تک بجٹ آتے رہے۔یہ ایک بہت بڑی کوتا ہی ہے جو صیغہ جات کی طرف سے ہو رہی ہے حالانکہ جہاں تک صیغوں کا سوال ہے اُن کے لئے کسی زیادہ غور و فکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔وہ جانتے ہیں کہ ہماری اتنی آمد ہے اور اس قدر خرچ ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ وہ زیادہ وقت صرف کریں اور بلا وجہ دیر لگاتے چلے جائیں۔میرے نزدیک اگر صیغہ جات کے ناظر چاہیں تو وہ اپنے اپنے صیغہ کا بجٹ دو تین گھنٹوں میں ہی تیار کر سکتے ہیں۔اصل مشکل تو اُسے پیش آتی ہے جس نے روپیہ مہیا کرنا ہوتا ہے۔مگر جس کے ذمہ روپیہ مہیا کرنا نہ ہو بلکہ اس کا صرف اتنا ہی کام ہو کہ وہ اپنی آمد اور خرچ کا اندازہ لگا کر بجٹ مرتب کر دے اُسے اس میں کیا دقت پیش آسکتی ہے۔اس