خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 686 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 686

خطابات شوری جلد دوم ۶۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء وو نیز فرمایا کہ: - " سیٹھ محمد صدیق صاحب کلکتہ والوں نے اپنی بیوی زبیدہ بیگم صاحبہ کی طرف سے مبلغ چارصد روپیہ زنانہ ہسپتال کے لئے دینا منظور کیا ہے۔جَزَاهُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔یہ وہی دوست ہیں جو اس سے پہلے یتامیٰ کے لئے ایک سو روپیہ ماہوار مدد دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔“ تیسرا دن مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء کے تیسرے روز کا رروائی کا آغاز چندہ جلسہ سالانہ کی اہمیت تلاوت قرآن مجید اور اجتماعی دعا سے ہوا۔اس کے بعد سب کمیٹی نظارت بیت المال کی رپورٹ پیش ہوئی جس کا پہلا حصہ چندہ جلسہ سالانہ سے متعلق تھا۔اس بارہ میں جب ممبران اظہارِ خیال کر چکے تو حضور نے احباب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: - شروع میں میں نے بتایا تھا کہ یہ سوال میں نے دوستوں کے سامنے صرف اُن کی آراء اور خیالات معلوم کرنے کے لئے پیش کیا ہے یہ غرض نہیں کہ اس کے متعلق کوئی رائے شماری کی جائے۔دوستوں نے اس بارہ میں مختلف خیالات ظاہر کئے ہیں مگر اس وقت میں اُن میں سے کسی امر کے متعلق بھی آراء شماری کی ضرورت نہیں سمجھتا۔صیغہ نے تمام خیالات کو سُن لیا ہے ان میں سے جو مفید خیالات ہیں صیغہ اُن کے مطابق عمل شروع کر دے۔یا اگر ضرورت سمجھے تو اُن میں سے کسی ایک کو اگلے سال کی مجلس شوریٰ میں پیش کر دے۔اگر صیغہ اپنی ذمہ داری پر یہ سمجھتا ہے کہ چندہ عام کی شرح کو بڑھا دینے سے چندہ جلسہ سالانہ کی کمی پوری ہو سکتی ہے تو وہ اگلے سال یہ معاملہ مجلس شوریٰ میں پیش کر دے۔گو میری ذاتی رائے یہی ہے کہ یہ تجویز مفید نہیں ہوگی اور اس طرح جو وصولی ہو گی اُس کے متعلق سلسلہ یہ اندازہ نہیں لگا سکے گا کہ اس میں چندہ عام کس قدر ہے اور چندہ جلسہ سالانہ کس قدر۔کیونکہ دونوں کو ایک ہی شرح چندہ میں شامل کر دیا جائے گا۔پھر میرے نزدیک اس تجویز پر عمل کرنے کا ایک اور نقص یہ ہے کہ