خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 687 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 687

خطابات شوری جلد دوم ۶۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چندہ جلسہ سالانہ کو ایک مستقل کام قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ:- اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاء کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قو میں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی۔کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ سالانہ کو ایک مستقل کام قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم سے یہ سلسلہ جاری کیا گیا ہے۔پس اگر چندہ جلسہ سالانہ کو الگ رکھا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس زور دینے کی وجہ سے کہ ہمارا سالانہ جلسہ دوسرے لوگوں کے جلسوں کی طرح نہیں مومنوں کا اس کے چندہ میں حصہ لینا ان کے ایمانوں کو ہمیشہ تازہ کرنے کا موجب بنتا رہے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر جماعت میں کچھ کمزور لوگ ہوتے ہیں، ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی بعض کمزور اور منافق تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام کے زمانہ میں بھی بعض لوگ کمزور اور منافق تھے حالانکہ یہ لڑائی کا زمانہ نہ تھا اور اب بھی ہماری جماعت میں بعض کمزور اور منافق ہیں۔اور آئندہ بھی ایسے کمزور اور منافق لوگ جماعت میں موجود رہیں گے مگر ہم اُن کے خیالات پر سلسلہ کا قیاس نہیں کر سکتے۔جس طرح کسی اعلیٰ درجہ کی چیز پر قیاس نہیں کیا جاسکتا اسی طرح ادنی درجہ کی چیز پر بھی سلسلہ کا قیاس نہیں کیا جاسکتا۔عام لوگوں کی حالت کا قیاس ہمیشہ اوسط درجہ کے مومنوں پر کیا جاتا ہے۔پس ہم اپنی جماعت کے افراد کا نہ انبیاء پر قیاس کر سکتے ہیں اور نہ منافقوں کو دیکھ کر اُن پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔اُن کی حالت کا اندازہ تمام مومنوں کی حالت پر قیاس کر کے ہی کیا جاسکتا ہے اور مومن اس قسم کی باتوں سے ضرور متاثر ہوتا ہے۔جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں پڑھتا ہے کہ ”لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں۔مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطرہ۔کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔اور یہ کہ ” جو اللہ