خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 685
خطابات شوری جلد دوم ۶۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء ایک شہر کے رہنے والوں پر تمام اخراجات کا بوجھ ڈال دیا جائے۔اگر قادیان کے لوگ عام چندوں کی ادائیگی میں سستی سے کام لینے والے ہوتے تو کہا جا سکتا تھا کہ چونکہ عام طور پر یہاں کے رہنے والے چندوں میں حصہ نہیں لیتے اور جماعت اُن کو ادا کرتی ہے اس لئے اب یہ بوجھ قادیان والے برداشت کریں۔مگر جہاں تک میرا تجربہ ہے قادیان کے لوگ سب سے زیادہ چندہ دیتے ہیں، پس یہ دلیل جو پیش کی گئی ہے بالکل غلط ہے۔شوریٰ میں وہی بات پیش ہوتی ہے جس کے متعلق فیصلہ کر دیا جاتا ہے کہ اس کے اخراجات کی جماعت پر ذمہ داری ہے۔ایسے امور شوریٰ میں پیش نہیں ہوتے جو لوکل حیثیت رکھتے ہوں۔بہر حال جو دلیل پیش کی گئی وہ صحیح نہیں۔دوست یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ مالی مشکلات میں زنانہ ہسپتال نہ کھولا جائے یا فلاں گریڈ پر لیڈی ڈاکٹر کو رکھا جائے۔مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس معاملہ کا جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔میرے نزدیک اس وقت اصل سوال صرف اتنا ہے کہ زنانہ ہسپتال قائم کیا جائے یا نہ کیا جائے۔بعد میں ایک سب کمیٹی مقرر کر دی جائے گی جو تفصیلات طے کر کے صدر انجمن احمدیہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔بہر حال میں اس وقت دوستوں سے صرف اجمالاً پوچھتا ہوں کہ اُن کے نزدیک ہسپتال کا زنانہ حصہ منظور کیا جائے یا نہ کیا جائے ؟ جو دوست اس کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۳۱۷ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا : - اب اگر کوئی صاحب مخالف ہوں تو وہ بھی کھڑے ہو جائیں۔“ کوئی دوست کھڑے نہ ہوئے۔حضور نے فرمایا :- میں فیصلہ کرتا ہوں کہ زنانہ ہسپتال کے قیام کے سوال پر بجٹ پیش ہونے کے موقع پر غور کر لیا جائے اور اگر بجٹ میں گنجائش ہو تو اس کو منظور کر لیا جائے۔مگر میں اس موقع پر لجنہ اماء اللہ سے بھی جس نے لیڈی ڈاکٹر رکھنے کی تجویز پیش کی تھی کہتا ہوں کہ اصولی طور پر گومیں نے کہہ دیا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ قادیان کے کسی ادارہ کے اخراجات قادیان والے ہی ادا کریں لیکن پھر بھی اگر لجنہ اماءاللہ اس بوجھ کو اُٹھانے کی کوشش کرے اور وہ عورتوں سے اس بارہ میں چندہ جمع کر لے تو بجٹ کے معاملہ میں ہمیں زیادہ سہولت ہو سکتی ہے اور ہم بغیر کسی خاص فکر کے اُن کی تجویز کو منظور کر سکتے ہیں۔“