خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 684
خطابات شوری جلد دوم وو ۶۸۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء دوستوں کے سامنے یہ تجویز پیش ہے کہ زنانہ مریضوں کے علاج کے لئے قادیان میں ایک لیڈی ڈاکٹر اور اس کے ساتھ ضروری عملہ رکھا جائے۔اسی طرح علاج سے تعلق رکھنے والے سامان اور ادویہ وغیرہ کے لئے روپیہ منظور کیا جائے۔اس کے متعلق دوستوں نے یہ رائے دینی ہے کہ آیا ایسا کیا جائے یا نہ کیا جائے ضمنی طور پر ایک دوست نے کہا ہے کہ زنانہ ہسپتال کے تمام اخراجات قادیان والے خود ادا کریں ، جماعت پر اس کا بار نہیں ہونا چاہئے۔جس طرح بیرونی شہروں کے مریض اپنے اخراجات خود ادا کرتے ہیں اسی طرح قادیان کی طبی ضروریات پر جو کچھ خرچ ہو وہ خود قادیان والوں کو برداشت کرنا چاہئے، جماعت پر اس کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے۔میرے نزدیک یہ مشورہ اُن اصول کے خلاف ہے جو دنیا کے تمام متمدن ممالک اور اقوام میں جاری ہیں۔اگر ہم اس اصل کو تسلیم کر لیں تو پھر یہ سوال بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ قادیان میں جو مدرسے جاری ہیں اُن کے اخراجات بھی خود قادیان والوں کو برداشت کرنے چاہئیں کیونکہ اُن کا زیادہ تر فائدہ قادیان والوں کو ہی پہنچ رہا ہے۔پھر یہ بھی سوال اُٹھایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ لوگ اپنے مہمانوں کی خاطر مدارات کرتے اور حسب توفیق روپیہ خرچ کرتے ہیں قادیان میں بیر ونجات سے جو مہمان آتے ہیں اُن کے اخراجات بھی قادیان والوں کو خود ہی برداشت کرنے چاہئیں ، جماعت پر اُن اخراجات کا بار نہیں ڈالنا چاہئے۔اگر اس طرح ایک ایک کر کے مختلف مذات کے اخراجات قادیان والوں پر تقسیم ہونے لگیں تو پھر غالبا چند رسالے ہی باقی رہ جائیں گے جن کا بوجھ جماعت پر رہے، باقی تمام اخراجات سے جماعت کے افراد آزاد ہو جائیں گے مگر کیا دنیا میں کہیں بھی یہ طریق رائج ہے کہ کسی مرکزی حیثیت رکھنے والے شہر میں کوئی ایسا ادارہ یا انسٹی ٹیوٹ قائم ہو اور اُس کے اخراجات صرف اُس شہر کے باشندے برداشت کرتے ہوں؟ گورنمنٹ اس میں حصہ نہ لیتی ہو؟ لا ہور میں میو ہاسپٹل قائم ہے مگر کیا لاہور کے باشندے اس کے اخراجات ادا کرتے ہیں؟ یا گورنمنٹ کالج ہے کیا اس کے اخراجات کی ذمہ داری صرف لاہور والوں پر اس وجہ سے ڈالی جاسکتی ہے کہ لاہور کے لوگ اس کالج سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ جو مرکزی ادارے ، ہوتے ہیں اُن کے اخراجات قومی طور پر تمام لوگوں کو ادا کرنے پڑتے ہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ