خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 683
خطابات شوری جلد دوم ۶۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء مخلوط تعلیم اور ایک دردناک واقعہ باقی رہی مخلوط تعلیم۔اس کے نقائص بعض دوستوں نے اپنی تقاریر میں بیان کر دیئے ہیں۔اسی سلسلہ میں ایک احمدی دوست نے مجھے رقعہ لکھا ہے جس میں ایک احمدی لڑکی کے متعلق جو کالج میں پڑھتی تھی اُس نے لکھا ہے کچھ سال ہوئے میں میوہسپتال میں داخل تھا اور سخت بیمار تھا کہ ایک رات آدھی رات سے لے کر سحر تک میں نے اُسے ایک غیر احمدی لڑکے کے ساتھ ناز و ادا کرتے دیکھا۔اُن دونوں کی غالباً کالج کی طرف سے ڈیوٹی تھی۔اُس رات میرا دل یہ واقعہ دیکھ کر بہت ہی مجروح ہوا۔ایسی باتیں بعض دفعہ گھروں میں بھی ہو جاتی ہیں۔مگر گھروں میں ان چیزوں کے سامان ہم خود مہیا نہیں کرتے لیکن کالج کی فضاء ایسی ہوتی ہے جس میں دوسروں کی طرف سے اس قسم کے سامان مہیا کئے جاتے ہیں اس لئے کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے لڑکیوں کا بھیجوانا اور اُن کا لڑکوں کے ساتھ مل کر تعلیم حاصل کرنا نہایت ہی خطرناک چیز ہے۔کہتے ہیں کسی حکیم سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے ہاتھ سے بھی مریض مرتے ہیں اور اناڑیوں کے ہاتھ سے بھی، پھر آپ میں اور اُن میں فرق کیا ہوا؟ اُس نے جواب دیا کہ میرے ہاتھ سے لوگ علم کے ماتحت مرتے ہیں اور اُن کے ہاتھ سے جہالت کے ماتحت مرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اگر انسان صحیح کوشش کرے اور پھر اتفاقاً کسی کوتاہی کی وجہ سے خراب نتیجہ نکل آئے تو اس کا انسان بہت کم ذمہ دار ہوتا ہے لیکن دوسری صورت میں دشمنوں کی شماتت بھی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی انسان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ گنہگار قرار پاتا ہے۔“ سب کمیٹی نظارت امور عامہ کی رپورٹ سب کمیٹی نظارت امور عامہ کی رپورٹ پیش ہوئی تو حضور نے فرمایا : - دو پہلی تجویز جو دوستوں کے سامنے ہے زنانہ ہسپتال کے قیام اور ایک لیڈی ڈاکٹر کے متعلق ہے کہ اسے عورتوں کے علاج کے لئے قادیان میں رکھا جائے۔جو دوست اس کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہوں وہ اپنے نام لکھوا دیں۔“ 66 چند نمائندگان نے اپنی آراء کا اظہار کیا اس کے بعد حضور نے فرمایا: -