خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 682 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 682

خطابات شوری جلد دوم ۶۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء گے۔ان گڑھوں کو خدا کے فرشتے ہمارے پہنچنے سے پہلے پہلے ہی پر کر دیں گے اور ہم سلامتی کے ساتھ دنیا میں امن کا جھنڈا قائم کر کے رہیں گے۔یہ خدا کی تقدیر ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا ، یہ عرش پر خدا کا وہ فیصلہ ہے جسے بدلنے کی کوئی شخص طاقت نہیں رکھتا۔ہمارا کام دین کی عظمت اور اس کے جلال کو دنیا میں قائم کرنا ہے، ہمارا کام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دنیا میں بلند کرنا ہے، ہمیں نہیں چاہئے کہ ہم کوئی ایسا کام کریں جو دشمنوں کی نظر میں اسلام کو بد نام کرنے والا اور اُن کو دین کے متعلق اور زیادہ شبہات میں مبتلا کرنے والا ہو۔بے پردگی مٹ جائے گی مجھے خدا تعالیٰ کے فضل سے کامل یقین ہے کہ یہ حالات جو بے پردگی وغیرہ کے سلسلہ میں دنیا میں نظر آرہے ہیں، چونکہ خدا تعالیٰ کے دین کے خلاف ہیں اس لئے اب دنیا میں قائم نہیں رہ سکتے۔بے پردگی مٹ جائے گی ، مرد اور عورت کا آزادانہ میل جول جاتا رہے گا، مغربیت اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھود رہی ہے جس میں وہ ایک دن ہمیشہ کی نیند سلا دی جائے گی اور اسلام اپنی پوری شان اور پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا کے ہر گوشہ میں بلکہ ایک ایک گھر اور ایک ایک دل میں جلوہ نما ہو گا۔اگر خدا ہمیں کل ہی حکومت دے دے اور ہم وائسرائے کی طرح ایک آرڈی ننس جاری کر دیں کہ جو عورتیں پر وہ نہیں کریں گی انہیں قید کر دیا جائے گا تو تم دیکھو گے کہ دوسرے ہی دن وہ عورتیں جو آج کھلے منہ سڑکوں اور بازاروں میں گھومتی دکھائی دیتی ہیں دوڑی دوڑی جائیں گی اور گھروں میں سے نہیں نکلیں گی جب تک اُنہوں نے برقع پہنا ہوا نہ ہو گا۔پھر یہ سوال تو رہ جائے گا کہ برقع کا سرخ رنگ ہونا چاہئے یا سبز ہونا چاہئے ، سیاہ ہونا چاہئے یا سفید ہونا چاہئے ، کوئی طبقہ کسی رنگ کو پسند کرے گا اور کوئی کسی رنگ کو مگر یہ نہیں ہوگا کہ کوئی ایک عورت بھی بے پردہ نظر آئے۔پس ہمارے لئے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔آسمان پر فرشتے اسلام کی تائید کے لئے کھڑے ہیں اور وہ زمین پر اتر نے والے ہیں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم نڈر ہو کر کام کرتے چلے جائیں اور اسلام کی اصل شکل میں ایک خفیف سے خفیف تبدیلی بھی کبھی برداشت نہ کریں۔