خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 681 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 681

۶۸۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء خطابات شوریٰ جلد دوم اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑے بڑے اہم تغییرات مقدر ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدمی رات کو مومن سوئے گا اور صبح کو کا فر اُٹھے گا۔صبح کو کافر ہوگا اور رات اُس پر ایسی حالت میں آئے گی جب کہ وہ مومن ہو گا۔اس میں اسی امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس زمانہ میں جلد جلد تغیرات رونما ہوں گے اور ایسے ایسے انقلاب پیدا ہوں گے جو انسانی قیاسات سے بالکل بالا ہوں گے۔ایک شخص مومن ہونے کی حالت میں سوئے گا اور دہریہ بن کر اُٹھے گا، اور ایک دوسرا شخص دہر یہ ہونے کی حالت میں صبح کرے گا اور شام کو وہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ غلامی میں آچکا ہو گا۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم خدا کے حکم کے مطابق چلتے چلے جائیں اور اپنی اطاعت اور وفا داری کا نمونہ دکھا کر خدا تعالیٰ کے سچے سپاہی بنیں۔اگر ایک فوج کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دے تو سپاہیوں کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ اعتراض کریں اور کہیں کہ ہم سمندر میں اپنے گھوڑے کیوں ڈالیں ہماری جانوں کا اس میں خطرہ ہے۔اُن کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ بے دھڑک سمندر میں گود جائیں اور اپنے افسر کے حکم کو بجالائیں۔اسی طرح ہمیں اگر روحانی فوج میں داخل ہونے کے بعد بعض نا قابلِ عبور سمند ر نظر آتے ہیں یا وہ گڑھے نظر آتے ہیں جن میں گر کر ہماری پسلیاں چُور چُور ہوسکتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ ہم سمندر کو عبور کر جائیں اور گڑھوں پر سے چھلانگ لگا کر گزر جائیں تو اگر خدا کا منشاء یہ ہوگا کہ وہ ہمیں زندہ رکھے اور ہمارے ذریعہ سے دنیا کے احیاء کے سامان پیدا فرمائے تو پیشتر اس کے کہ ہم ان گڑھوں میں گریں خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اتر کر اُن کو پُر کر دیں گے اور جب ہم پہنچیں گے وہ ہمیں گڑھے نہیں بلکہ ہموار اور سیدھا اور کھلا راستہ نظر آئے گا، پس ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اپنی آنکھیں بند کر کے چلتے چلے جائیں اور اس امر کی پرواہ نہ کریں کہ دنیا ہمارے متعلق کیا کہتی ہے۔جس خندق کو عبور کرنے کا خدا نے حکم دیا ہے وہ بہر حال عبور کی جائے گی۔اگر ہمارے لئے یہ مقدر ہے کہ ہم اس میں گر کر مر جائیں تو اس موت سے زیادہ ہمارے لئے خوشی کی چیز اور کوئی نہیں ہوسکتی اور اگر ہمارے لئے مقدر ہے تو کوئی خطرہ ہمارے ارادوں کو پست اور ہماری ہمتوں کو کوتاہ نہیں کرسکتا۔لیکن میں کہتا ہوں یہ خیال ہی غلط ہے کہ ہمارے رستے میں وہ گڑھے آنے والے ہیں جو ہمیں ہلاک کر دیں