خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 680
خطابات شوری جلد دوم ۶۸۰ سے بے پردگی ہوتی تھی حالانکہ ختنہ کرانا سنت ہے۔مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء پردہ اسلام کا اہم ترین حکم غرض اچھی طرح یاد رکھو پردہ اسلام کا ایک اہم ترین حکم ہے۔جو شخص پر دہ کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ اسلام کی ہتک کا ارتکاب کرتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مغربیت کی رو دلوں میں اباحت پیدا کر رہی ہے اور بعض احمدی بھی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اب پردہ دنیا میں قائم رہتا نظر نہیں آتا۔مگر میں اُن سے کہتا ہوں تمہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود بھی دنیا میں قائم ہوتا نظر نہیں آتا تھا۔پھر آج کیا یہ نظارہ تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ دنیا کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پھیل چکا ہے اور اس کو مٹانے والے خدا تعالیٰ کے غضب کا نشان بن چکے ہیں۔پھر میں کہتا ہوں کیا تم نے خدا کے اس نشان کو نہیں دیکھا کہ ۱۹۳۴ء میں احرار کا لشکر ہمارے مقابل میں اُٹھا اور اُس نے ہندوستان کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک ہمارے خلاف ایک طوفانِ بے تمیزی برپا کر دیا۔چھوٹے بھی اور بڑے بھی ، عالم بھی اور جاہل بھی اس بات پر متفق ہو گئے کہ ہمیں مٹا دیں۔گورنمنٹ کے کل پرزے بھی احرار کی تائید میں نظر آنے لگے ، حکام ان کی پیٹھ ٹھونکتے اور کہتے شاباش! تم بڑا اچھا کام کر رہے ہو۔اُن نازک اور تاریک ترین ایام میں جب کہ بعض احمدی بھی کہہ رہے تھے کہ اب جماعت کا کیا بنے گا، خدا نے میری زبان پر جاری کیا کہ میں زمین احرار کے پاؤں تلے سے نکلتی دیکھتا ہوں۔چنانچہ تھوڑے ہی دن گزرے کہ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ زمین احرار کے پاؤں سے نکل گئی۔یہاں تک کہ غیر احمدی اخبارات نے بھی اس صداقت کو تسلیم کیا۔انہوں نے بھی انہی الفاظ سے احرار کی عبرتناک ناکامی کا ذکر کیا کہ زمین احرار کے پاؤں تلے سے نکل گئی۔اسی طرح اب جو لوگ کہتے ہیں کہ پردہ قائم رہتا نظر نہیں آتا میں اُن سے کہتا ہوں کہ تمہیں تو پردہ قائم ہوتا نظر نہیں آتا ، اگر دنیا ہمارے وعظ ونصیحت سے متاثر ہو کر بے پردگی سے باز نہیں آئے گی تو کیا تم سمجھتے ہو اس زمین کو چکر دینا خدا کے اختیار سے باہر ہے؟ یہ بگڑی ہوئی دنیا جو آج تمہیں دکھائی دے رہی ہے خدا اسے ایک ایسا چکر دے گا کہ یہ مجبور ہوگی اس بات پر کہ اسلام کے احکام پر عمل کرے اور ہر قسم کی غلط آزادی کو خیر باد کہہ دے۔