خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 53

خطابات شوری جلد دوم ۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء تھی۔مگر یہ پہلے کی باتیں ہیں مستقل اصلاح کے لئے مستقل سامان کی ضرورت ہے۔پس قادیان میں صرف سکول اور بورڈنگ بنا دینا کوئی چیز نہیں جب تک اس کا ماحول ایسا نہ ہو جو نقائص سے پاک ہو۔مجھے دو سال تک اس بات پر زور دینا پڑا کہ باہیں اور سینے ننگے کرنے کا جو فیشن نکلا ہے وہ ہمارے گھروں میں رائج نہیں ہونا چاہئے۔فیشن بھی ایک متعدی بیماری ہی ہے۔اور جب آتی ہے تو یکلخت پھیل جاتی ہے اور عورتوں کا کیا کہنا ہے وہ کمزور اور فیشن کی دلدادہ ہوتی ہیں۔زیادہ سے زیادہ فیشن والا مرد کم سے کم فیشن والی عورت سے بھی کم ہی ہوگا۔عورت ہر روز تغیر چاہتی ہے۔قریباً روزانہ گھر کا نقشہ بدلا جاتا ہے۔چار پائی ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ بچھا دی جائے گی اور اگر اس کی وجہ پوچھو تو کہا جاتا ہے کہ فلاں جگہ اچھی نہیں لگتی تھی ، اب اچھی لگتی ہے۔لیکن چند دن ہر پھر کر چار پائی پھر پہلی جگہ آجاتی ہے، تو عورت جلد جلد تبدیلی قبول کرتی ہے۔میں نے ایک انگریزی رسالہ میں پڑھا کہ فرانس میں ایک ٹوپی کا فیشن بدلا تو ایک عورت سخت مصیبت میں پڑ گئی کیونکہ جب وہ گھر سے چلی تو پہلی ٹوپی کا فیشن تھا لیکن جب راستہ میں پہنچی تو معلوم ہوا کہ فیشن بدل چکا ہے۔اس پر اُسے وہ ٹوپی چھپانی پڑی تاکہ ذلّت نہ ہو۔اس قسم کی باتوں کا عورتوں پر بڑا اثر ہوتا ہے۔عورتوں کو تعلیم دلانا نہایت ضروری ہے لیکن جہالت کو تعلیم سمجھ کر حاصل کرنا سخت نقصان رساں ہے۔پس پہلے ان عیوب کو دور کرو اور پھر تعلیم کا انتظام کرو ورنہ حافظ نے کہا ہے۔در میان قصر دریا تخته بندم کرده باز می گوئی که دامن ترمکن ہشیار باش کسی کو سمندر میں ڈال کر کہا جائے کہ تم پر پانی کا چھینٹا نہ پڑے تو یہ کیونکر ممکن ہے۔سمندر میں غوطہ لگا کر جس نے دوسروں کو بچانا ہے اُسے تو سمندر میں گرنے دو مگر کسی اور کو کیوں دھکیلتے ہو۔ایک دایا کے لئے تو ضروری ہے کہ بچہ جننے والی کا ستر دیکھے۔پھر کیا ہر عورت کو چاہئے کہ دوسری کا ستر دیکھے۔ایک ڈاکٹر کا فرض ہے کہ مریض خواہ مرد ہو یا عورت ، اُس کی نبض دیکھے۔پھر کیا ہر مرد کو اجازت ہونی چاہئے کہ ہر عورت کو دیکھے۔دیکھنا یہ چاہئے کہ کس حد تک کسی چیز کی ضرورت پیش آتی ہے۔اس حد تک نفع و نقصان کا موازنہ کر کے اجازت دی جاسکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔