خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 52

خطابات شوریٰ جلد دوم ۵۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء پردہ کرتی تھی۔ایک دفعہ وہ میاں بیوی رستہ میں مل گئے تو بیوی چُھپ گئی۔اُس کے خاوند نے بتایا آپ سے پردہ کرتی ہے۔میں نے کہا اچھی بات ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کچھ تو حیا باقی ہے۔تو یہ نقائص ہیں جو آجکل سکولوں اور کالجوں میں پیدا ہورہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں ہر شریف احمدی ایسی تعلیم کو خیر باد کہنا ضروری سمجھے گا اور کہے گا گھر پر جو تعلیم دلا سکوں وہ ہزار درجہ بہتر ہے کہ اپنی لڑکی کو کالج میں بھیجوں۔پس بورڈنگ کے سوال کے علاوہ بھی ہماری جماعت کے لوگ ایسی جگہ تعلیم کیوں دلائیں جہاں اس قسم کے نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔ایسی جگہ تعلیم نہ دلانا ہزار درجہ اچھا ہے دلانے سے۔میں سمجھتا ہوں کسی امر کی اصلاح کے لئے ماحول کا بدلنا ضروری ہے اور ہر چیز کا ماحول بدلنے کے لئے ایک وقت آتا ہے۔وہ وقت ہماری جماعت کے لئے بھی آیا جبکہ تحریک جدید جاری کی گئی۔ایک دوست نے کہا تھا کہ جب سے میں ولایت سے واپس آیا تعلیم نسواں پر زور دیتا رہا مگر یہ نہیں بتایا کہ کیوں زور دیتا رہا ہوں۔اس لئے کہ ان تعلیموں کا مقابلہ کرنے کے لئے تعلیم دلائی جائے جو آجکل اسلام کے خلاف دی جا رہی ہیں نہ کہ وہی تعلیم ہم اپنی لڑکیوں کو دلانا شروع کر دیں۔یہاں کے لڑکوں کے ہائی سکول والوں نے تین دفعہ کہا کہ سکول میں بینڈ رکھنے کی اجازت دیں اس کا بڑا فائدہ ہوگا۔یہ کتنی چھوٹی سے بات ہے مگر میں سمجھتا ہوں کئی سال تک یہ تجویز پیش کرنے والوں کی رالیں ٹپک ٹپک کر ان کے تکیے بھیگ گئے ہوں گے کہ اجازت مل جائے۔لڑکیوں کے سکول کے متعلق آج ہی ایک مخلص خاتون نے ذکر کیا کہ انسپکٹرس نے اس سکول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں میری موجودگی میں ہیڈ ماسٹر کو اندر بلا لیا گیا۔جس پر میں نے ڈانٹا کہ باہر کے سکول تو گرفت کے ڈر کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے تمہیں تو مذہبی طور پر ایسی بات نہیں کرنی چاہئے۔ایک لڑکی نے بتایا کہ ایک مدرس نے کہا اُستاد سے پردہ کی ضرورت نہیں۔میں نے اُسے کہا تم پردہ کے ساتھ بھی اس کمرہ میں داخل نہ ہو جس میں وہ اُستاد پڑھائے یا سب سے پیچھے گھونگھٹ نکال کر بیٹھا کرو۔تو کئی ایسے نقائص ہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہے۔جن کو دور کرنے کے لئے میں نے لجنہ کو مقرر کیا تھا۔جب لجنہ نے معائنہ کر کے گرفت کی تو بہت کچھ اصلاح ہو گئی