خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 54
خطابات شوری جلد دوم ۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء پس سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ سکول کا نصاب بدلا جائے کیونکہ ماحول بدلنے کے لئے نصاب کا بدلنا ضروری ہے۔لڑکی ذرا لکھ پڑھ لے تو رفعے لکھنے لگ جاتی ہے مگر لڑکے اس طرح نہیں کرتے۔میں بتا سکتا ہوں کہ کیوں ایسا ہوتا ہے مگر اس کے اتنے پہلو نکلیں گے کہ اگر میں تقریر شروع کروں تو کل تک بھی ختم نہ ہو گی۔مگر یہ واقعہ ہے کہ لڑکی تھوڑا بہت پڑھنے کے بعد ر تھے لکھنے لگ جاتی ہے لیکن لڑکے ایسا نہیں کرتے۔پھر عورت موسیقی کی طرف زیادہ توجہ کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ گانے والے مردوں کی نسبت گانے والی عورتیں زیادہ ہوتی ہیں۔گو اعلیٰ گانے والے مرد زیادہ ہوتے ہیں جیسا کہ اعلیٰ کھانا پکانے والے مرد زیادہ ہوتے ہیں گو پکانے والی عورتیں زیادہ ہوتی ہیں یہ علم النفس کی بات ہے۔میں اس کی بحث میں نہیں پڑ سکتا مگر ہوتا اسی طرح ہے۔عورتیں زیادہ گانے بجانے کی طرف مائل ہوتی ہیں۔گو ماہر گانے والے مرد ہی زیادہ ہوتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لڑکیاں شعر زیادہ یاد کر لیتی ہیں۔پھر لڑ کی جذباتی زیادہ ہوتی ہے اس لئے شعر پڑھ کر اُس میں محو ہو جاتی ہے۔ایک ہی شعر ایک لڑکا پڑھے گا تو اُس پر اسقدراثر نہ ہوگا جس قدر وہی شعر ایک لڑکی پر کرے گا۔اور آجکل کے تعلیمی نصاب اور زنانہ رسالوں میں جذباتی شعروں کی کثرت ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ لڑکی میں جبکہ شہوت پیدا نہیں ہوئی ہوتی ،عشق پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔وہ یہ نہیں جانتی کہ بدکاری کیا ہوتی ہے مگر وہ یہ جانتی ہے کہ کوئی محبت کا اظہار کرے تو اُس سے محبت کا اظہار کرنا چاہئے۔ان حالات میں اگر کوئی لڑکا رقعہ دیتا ہے تو لڑکی کو اشعار یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ وفادار بننا اور اس کو جواب دینا چاہئے۔جب آجکل کی تعلیم کا یہ اثر ہورہا ہو تو کس طرح اس تعلیم کو مفید کہا جا سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آجکل کی تعلیم یافتہ ۹۰ فیصدی لڑکیاں یہ خیال کرتی ہیں کہ جو انہیں مخاطب کرے اُس کے ساتھ اُنہیں وفاداری کرنی چاہئے۔ان کے بُرے خیالات نہ ہوں وہ بدکاری کی حد میں داخل نہ ہوں تاہم وہ بدکاری کے تباہ کن مفہوم کی شکار ہو جاتی ہیں اور یہ ب کچھ بُرا اور گندہ لٹریچر پیدا کر رہا ہے۔اس کے اثر کے ماتحت ایک لڑکی لفظ محبت جانتی ہے مگر محبت کی حقیقت کو نہیں جانتی۔کوئی لڑکا جب اُسے کہتا ہے کہ مجھے تم سے محبت ہے تو وہ سمجھتی ہے کہ میں جو کچھ محبت کے متعلق پڑھتی رہی ہوں اُس کے امتحان کا وقت آ گیا اور