خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 51

خطابات شوری جلد دوم ۵۱ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء نے سمجھا دیہاتی لوگوں نے اسے مارا پیٹا ہوگا اور اِس طرح مجبور کیا ہوگا اس لئے میں نے ہمدردی سے پوچھا کیا مجبوری پیش آگئی تھی ؟ کہنے لگا چڑی کے برابر روپیہ نکال کر انہوں نے میرے سامنے رکھ دیا تو پھر میں کیا کرتا؟ میں نکاح پڑھانے پر مجبور ہو گیا۔یہ ویسی ہی مجبوری ہے۔ذرا بتاؤ تو سہی اس تعلیم کے وہ کونسے فوائد ہیں جو کہ سارے کے سارے مل کر ان نقائص میں سے کسی ایک سے بھی بھاری ہوں جو سکولوں کی تعلیم پیدا کر رہی ہے۔ایک ت نے پوچھا ہے کہ برتھ کنٹرول کے متعلق اسلام کی کیا تعلیم ہے؟ اس لئے بتاتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ہر حالت میں ناجائز قرار نہیں دیا بلکہ اس کے لئے بعض قیود ہیں مگر یہ قیود شادی کے بعد عائد ہوتی ہیں۔اور جس برتھ کنٹرول نے آجکل مصیبت برپا کی ہوئی ہے وہ غیر شادی شدہ کو سکھایا جاتا ہے اور اس لئے سکھایا جاتا ہے کہ بدکاریاں کرو تو ان کے نتائج سے کس طرح بیچ سکتی ہو۔پس اس وقت ذکر اُس برتھ کنٹرول کا نہیں جو خاوند کی صحت یا عورت کی صحت سے تعلق رکھتا ہے بلکہ اُس کا ذکر ہے جو کنواری لڑکیوں سے تعلق رکھتا ہے۔ایک دوست نے کہا ہے کہ لڑکیوں کے وہ سکول جن کا انتظام بہت اچھا سمجھا جاتا ہے ان میں بھی نقائص ہیں۔مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آ گیا۔لاہور کا ایک کالج جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس میں پردہ کا نہایت اعلیٰ انتظام ہے اور چونکہ مجھے اُس کے متعلق پورا پتہ نہ تھا اس لئے اپنی ایک چھوٹی لڑکی اور ہمشیرہ کی چھوٹی لڑکی کو وہاں چھوٹی عمر میں پڑھنے کے لئے بھیجنے کا ارادہ تھا۔اس کالج کی ۱۸۔۲۰۱۸ - ۲۰ سال کی مسلمان لڑکیاں ننگے سر اور ننگے منہ ایک لیڈی کے ساتھ پٹھانکوٹ پھرتی دیکھی گئیں۔اور جب پردہ کے متعلق پوچھا گیا تو یہ جواب ملا کہ مسلمان لڑکیوں کو ہم لاہور میں پردہ کراتے ہیں یہاں چونکہ سیر کے لئے آئے ہیں اس لئے اگر یہاں بھی پردہ کرائیں تو سیر کیا ہو۔پھر جب ہم ڈلہوزی پہنچے تو ان کے پاس دو کوٹھیاں خالی تھیں وہ ہم نے کرایہ پر لے لیں۔باقی دوکوٹھیوں میں ابھی کچھ لڑکیاں موجود تھیں ان کے متعلق معلوم ہوا کہ ہماری کوٹھیوں کے نوکروں سے گھنٹہ گھنٹہ باتیں کرتی رہتیں ،لڑکوں کے ساتھ اکیلی سیر کو جاتیں۔یہ سب سے زیادہ نیک نام کالج کی حالت تھی۔وہاں ایک لڑکی تھی جو کسی پٹھان افسر کی بیوی تھی اُس نے پردہ ترک کر رکھا تھا مگر مجھ سے