خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 654
۶۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء خطابات شوری جلد دوم کہ امیر بھی اُن کو نامزد نہ کرے اور ہو سکتا ہے کہ وہ انتخاب میں بھی نہ آئیں۔پس یہ اعتراض ایسا اہم نہیں جس کو مد نظر رکھا جا سکے لیکن ایک اور سوال جو نہایت اہمیت رکھتا ہے یہ اُٹھایا گیا ہے کہ اس سے جماعت کے کمزور طبقہ میں یہ احساس پیدا ہو جائے گا کہ ہم سے صرف چندہ مانگا جاتا ہے ہمیں اور کاموں میں دخل دینے کا حق نہیں دیا جاتا۔میرے نزدیک یہ سوال گومعمولی نظر آتا ہے لیکن اصولی طور پر اگر ہم دیکھیں تو بہت اہم ہے اور اس کے دونوں پہلو اچھے بھی ہیں اور بُرے بھی۔جہاں تک تعاون اور کام کے عمدگی سے چلنے کا سوال ہے یہ امر مد نظر رکھنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ امیر کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیئے جائیں اور انتخاب میں ایسے ہی آدمی لائے جائیں جو کام کے اہل ہوں۔مگر دوسری طرف جیسا کہ خود دوستوں نے سوال اُٹھایا ہے اس کا یہ نتیجہ بھی نکل سکتا ہے کہ جماعت کے ایک حصہ میں سے روح عمل مفقود ہو جائے اور وہ یہ سمجھنے لگ جائے کہ ہم سے صرف چندہ مانگا جاتا ہے عملی کاموں میں حصہ لینے کا ہمیں موقع نہیں دیا جاتا۔اس کے علاوہ ایک اور چیز بھی ہے جس کو ہم کسی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے اور وہ یہ کہ جہاں اس طریق سے آپ کا تعاون بڑھ جاتا ہے وہاں یہ بھی خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جماعت میں اختلاف کے باوجود تعاون کرنے کی جو روح پائی جانی چاہئے وہ زائل یا کمزور نہ ہو جائے۔اس وجہ سے ہماری جماعت کے افراد ہمیشہ ایسے مقام پر رکھے جاتے ہیں کہ دوسرے کے ساتھ مل کر جہاں اپنی مرضی سے کام کرنے کے لئے تیار ہوں وہاں ان کی مرضی کے خلاف اگر کسی کے ماتحت اُنہیں کام کرنا پڑے تو اس کے لئے بھی وہ ہمیشہ تیار رہیں لیکن ایک امیر کو جب اختیار دے دیا گیا کہ وہ ہمیشہ اپنی مرضی کے آدمی جماعت میں سے منتخب کر لیا کرے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ مخالفت کے باوجود تعاون کرنے کی روح جماعت میں کم ہو جائے گی۔ہماری کوشش یہ ہے کہ آہستہ آہستہ امارت کا سلسلہ ہر جماعت میں رائج کر دیا جائے۔پس جب اس نظام کو وسیع کیا گیا اور امراء کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے عہدیداران کا انتخاب کر لیا کریں تو وہ ہمیشہ ایسے لوگوں کو ہی منتخب کیا کریں گے جو خوشی سے اُن کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں گے اور وہ یہ خیال کر لیں گے کہ یہ لوگ امیر کے ساتھ تعاون کرنے والے ہیں حالانکہ وہ امیر کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے