خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 655
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء ہوں گے بلکہ اپنی مرضی سے پیچھے چل رہے ہوں گے۔قصہ مشہور ہے کہ ایک چوہے نے کسی اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور کئی میل تک چلتا گیا۔اونٹ بھی خاموشی سے اُس کے پیچھے چلتا رہا۔یہاں تک کہ چلتے چلتے سامنے دریا آ گیا۔اونٹ نے دریا کو دیکھا تو رُک گیا اور اُس نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔یہ دیکھ کر چوہا کہنے لگا اب تک تو تم میری اطاعت کرتے آئے تھے یہ کیا ہوا کہ یہاں آ کر تم نے میری بات ماننے سے انکار کر دیا ؟ اونٹ کہنے لگا میں تمہاری اطاعت تو نہیں کر رہا تھا میری تو اپنی مرضی اس طرف آنے کی تھی تم نے یہ سمجھ لیا کہ میں تمہاری اطاعت کر رہا ہوں۔اب آگے جانے کی میری مرضی نہیں اس لئے میں تمہارے ساتھ نہیں چلتا۔اس قصہ میں یہی بتایا گیا ہے کہ کئی اطاعتیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر تو اطاعتیں نظر آتی ہیں مگر در حقیقت اُن میں انسان کی اپنی مرضی اور رضا کا دخل ہوتا ہے۔جب تک اس کے منشاء کے مطابق کام ہوتا رہتا ہے وہ چلتا چلا جاتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اطاعت کر رہا ہے مگر جونہی اس کی طبیعت کے خلاف کوئی بات آجاتی ہے اُس کا تمام تعاون جاتا رہتا ہے اور وہ مخالفت کرنے لگ جاتا ہے۔جس سے صاف پتہ لگ جاتا ہے کہ اُس کا تعاون اپنی مرضی کے لئے تھا اطاعت اور فرمانبرداری کا اس میں دخل نہیں تھا۔پس اگر ہم یہ قاعدہ مقرر کر دیں کہ امراء ہی عہد یدار نامزد کیا کریں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ امراء بہر حال ایسے ہی لوگوں کو نامزد کریں گے جو ان کے مزاج شناس ہوں گے اور جو اُن سے مل کر کام کر سکتے ہوں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امراء کو عہد یداروں کا تعاون تو حاصل ہو جائے گا مگر یہ روح جماعت میں نہیں رہے گی کہ اپنی طبیعت کے خلاف بات دیکھ کر بھی افسر کی کامل فرمانبرداری اور اطاعت کرنی چاہئے۔دوسری طرف امراء میں یہ نقص پیدا ہو جائے گا کہ وہ لوگوں سے اپنے خلاف باتیں سننے کے عادی نہیں رہیں گے۔اگر امیر کوئی حکم دیتا ہے اور جماعت میں سے کوئی شخص اس کو نہیں مانتا تو اُسے یہ احساس رہتا ہے کہ مجھے لوگوں میں اطاعت کا مادہ زیادہ سے زیادہ پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن اگر وہ ہمیشہ اپنے ڈھب کے آدمی نامزد کر لیا کرے تو اپنے خلاف باتیں سُننے کا وہ عادی نہیں رہے گا۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں یہ فرمایا ہے۔کہ مَنْ أَطَاعَ اَمِيُرِى فَقَدْ اَطَاعَنِى وَمَنْ عَطى أَمِيرِى فَقَدْ عَصَانِي جس