خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 653
۶۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء خطابات شوری جلد دوم اُڑ جاتا ہے کہ اس طرح لوگوں کا حق چھینا جاتا ہے کیونکہ جب جماعتیں خود یہ مشورہ دے دیں کہ ہمارا حق بعض اور کے سپرد کر دیا جائے تو یہ اُن کے حق کا چھینا نہیں کہلائے گا بلکہ صرف یہ سمجھا جائے گا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اپنے اختیارات بعض اور کے سپر د کر دیئے ہیں۔ایک سوال اس کے متعلق مولوی سعد الدین صاحب نے اٹھایا ہے کہ اس سے نظام اُلٹ جاتا ہے کیونکہ صدر بھی تو ہیں آخر وہ کس طرح کام لیتے ہیں پس اس تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔یہ بھی ایک غور کے قابل سوال ہے لیکن اس کو درست تسلیم کر لینے کی صورت میں ایک اور سوال بھی اُٹھتا ہے جس کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ اگر سوال ہو کہ صدر بھی تو کام چلا سکتے ہیں تو پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ امیر کی کوئی ضرورت نہیں۔لیکن اگر باوجود صدر کے بعض مقامات پر امیر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو یہ سوال اُڑ جاتا ہے کہ اس تبدیلی کی ضرورت نہیں صدر کام کے لئے موجود ہیں۔اس صورت میں یہی کہا جائے گا کہ صدر بھی کام کرتے ہیں اور امراء بھی کام کرتے رہیں۔کچھ عرصہ کے بعد جماعت دونوں کے کاموں کا موازنہ کر کے یہ فیصلہ کر سکے گی کہ وہ ان دونوں میں سے کس کا انتخاب اپنے لئے زیادہ بہتر سمجھتی۔ہے۔ایک سوال اس کے متعلق حکیم خلیل احمد صاحب مونگھیری نے اٹھایا ہے کہ یہ بات جماعت کی روح عمل کو نکال لینے کے مترادف ہے۔اس کے متعلق چونکہ دوسرے دوستوں نے اپنی بحث میں کافی روشنی ڈال دی ہے میں اس کے متعلق کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ایک سوال اس کے متعلق یہ بھی کیا گیا ہے کہ اگر کام کے اہل آدمی امیر نے نہ بچنے بلکہ عام انتخاب کے ذریعہ سے اُن کو لیا گیا تو ایسے آدمی جو کام کے قابل ہوں گے وہ جماعتی کاموں میں حصہ لینے سے محروم رہ جائیں گے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ انتخاب میں نہ آسکیں۔میرے نزدیک یہ سوال ایسا ہے جو دوسری طرف بھی پڑ سکتا ہے۔اگر نامزدگی کا طریق اختیار کیا جائے تو اس صورت میں بھی ہو سکتا ہے کہ امیر کی نظر اہل آدمی پر نہ پڑے یا وہ کسی اور وجہ سے اس کو اپنے ساتھ رکھنا مناسب نہ سمجھے اور اس کی بجائے کسی اور کو لے لے۔آخر یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ ہمیشہ اہل آدمیوں کو امیر کی طرف سے نامزد کیا جائے۔ہوسکتا ہے