خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 646 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 646

خطابات شوری جلد دوم ۶۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء دوسرا دن جماعتی عہدیداران کا انتخاب سب کمیٹی نظارت علیا کی رپورٹ میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ:- جہاں چالیس یا اس سے زیادہ چندہ دہندہ ممبر ہوں وہاں کی جماعت کے امیر اور سیکرٹریوں اور محاسب اور آڈیٹر اور امین کا انتخاب بلا واسطہ نہ ہو گا بلکہ ایک مجلس انتخاب کے ذریعہ سے ہوگا“ اس تجویز پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کئی ممبران نے اپنی آراء پیش کیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا: - اس وقت جو گفتگو ہوئی ہے یا دوستوں کی طرف سے مشورہ پیش ہوا ہے اس میں دو ترمیمیں ہیں ایک لجنہ اماءاللہ لاہور کی طرف سے کہ جو تجویز نظارت کی طرف سے پیش ہے وہ منظور نہ ہو بلکہ امیر کو حق دیا جائے کہ وہ عہدیداروں کو خود منتخب کیا کرے۔دوسری ترمیم پیر صلاح الدین صاحب کی طرف سے ہے کہ معہدیداروں کا انتخاب تو امیر مقامی ہی کرے لیکن چونکہ اصولاً ذمہ داری امیر پر ہوتی ہے اس لئے اُسے یہ اختیار حاصل ہونا چاہئے کہ جب وہ کسی کو کام کرتا نہ دیکھے تو اُسے معطل کر دے اور اُس کی جگہ اور شخص کو مقرر کر کے نظارت علیا میں رپورٹ پیش کر دے۔گویا اس تجویز کے متعلق دو ترمیمیں ہو گئی ہیں۔جہاں تک میں نے دوستوں کی آراء کو سُنا ہے اس وقت جو گفتگو ہوئی ہے اس میں کوئی بات کسی دوست نے زائد اور بلا ضرورت نہیں کی اور وہ صحیح حد کے اندر رہے ہیں۔بہر حال دونوں طرف سے اس وقت اہم باتیں بیان کر دی گئی ہیں اور اُمید ہے کہ دوستوں نے ان سب امور کو اپنے ذہن میں مستحضر رکھا ہوگا تا کہ رائے پیش کرتے وقت اُن کو آسانی رہے۔لیکن پیشتر اس کے کہ دوستوں سے اس بارہ میں رائے لی جائے بعض باتوں کے متعلق میں اپنے خیالات کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں تا کہ رائے دینے سے پہلے اگر کسی شخص کے دل میں کوئی خلش پائی جاتی ہو تو وہ دُور ہو جائے۔