خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 645
خطابات شوریٰ جلد دوم ۶۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء تنخواہیں بڑھا دی گئی تھیں مگر بعد میں پھر ان کی تنخواہیں کم کر دی گئیں۔چنانچہ مجھے ایسے استاد معلوم ہیں جو اڑھائی اڑھائی تین تین سو روپیہ تنخواہ لیتے تھے مگر جنگ کے بعد سوا سو اور ڈیڑھ سو روپیہ تنخواہ پر آگئے۔پس گورنمنٹ اپنی مصلحت کے ماتحت تنخواہیں بڑھا گھٹا دیتی ہے اس لئے ہمیں اس معاملہ میں اُس کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں۔ہاں جیسا کہ میں نے بتایا ہے کارکنوں کی موجودہ مالی تنگی کو قحط الاؤنس یا جنگ الاؤنس کے ذریعہ دُور کرنے کی کوشش ضرور ہونی چاہئے۔اور اگر بعد میں ہمیں کسی وقت معلوم ہو کہ ہما را ریز روفنڈ قائم ہو گیا ہے، قرض اُتر گیا ہے، آمد میں بھی اضافہ ہے، مگر ملک کی حالت اچھی نہیں اور ہمیں اپنے کارکنوں کو آرام پہنچانے کی ضرورت کا احساس ہو تو ہم اُس وقت ان کی تنخواہ بھی بڑھا سکتے ہیں مگر یہ وقت نہیں کہ ہم ان کی تنخواہ بڑھانے پرغور کریں۔پچھلی جنگ کے دوران میں بھی ہم سے یہ غلطی ہوئی تھی جس کے نتیجہ کے طور پر ایک لمبے عرصہ تک ہماری آمد میں مد و جزر کیفیت رہی۔چنانچہ کبھی کارکنوں کو تخفیف میں لایا گیا ، کبھی تنخواہیں کم کی گئیں اور کبھی کٹوتیوں کا سلسلہ جاری کیا گیا۔پس چونکہ ایک دفعہ ہم اس کا تلخ تجربہ کر چکے ہیں اس لئے آئندہ ہمیں اس تجربہ کو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔پس سب کمیٹی کے لئے ضروری ہے کہ وہ عام اخراجات کا بجٹ ۴۲۔۱۹۴۱ء کے بجٹ سے پندرہ ہزار روپیہ کم رکھے۔لیکن اِس قاعدہ پر اُن الاؤنسوں کا اثر نہیں ہو گا جو جنگ کی وجہ سے منظور کئے گئے ہیں یا اُس اضافے کا اثر نہیں ہوگا جو جنگ کی وجہ سے سائر خرچ میں ہو گیا ہے۔مگر ایسی تمام زیادتیاں اصل بجٹ سے علیحدہ دکھانی چاہئیں ، خواہ وہ زیادتی سائر میں ہو خواہ قحط الاؤنس میں ہو۔خواہ وہ زیادتیاں جو بعد میں وقتاً فوقتاً بطور مستقل سالانہ اخراجات کے میری منظوری سے بجٹ میں شامل کی جائیں۔اس وقت تنخواہوں میں زیادتی کا سوال اُٹھانا بالکل عبث اور فضول ہے۔جنگ کے بعد ان امور پر غور کیا جا سکتا ہے۔اس وقت ہم اپنے کارکنوں کو قحط الاؤنس کے ذریعہ مدد دے سکتے ہیں اور یہ مدد ہمیں ضرور دینی چاہئے۔