خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 647
خطابات شوری جلد دوم ۶۴۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء با بو قاسم الدین صاحب سیالکوٹ نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ مجلس شوری کی پوزیشن ایی کلید باران کے تعلق ایک قاعدہ صدر انجمن احمد ہے انتخاب عہدیداران کا چلا آرہا ہے شوری کو صدر انجمن کے کسی قاعدہ میں ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں؟ یہ ایک اہم معاملہ ہے جس کی وضاحت ضروری ہے اس لئے کہ یہ سوال حقیقت کو نہ سمجھنے وجہ سے پیدا ہوا ہے۔اگر اس سوال کو بغیر توجہ کے چھوڑ دیا جائے تو اس سے کئی قسم کی غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔بات یہ ہے کہ مجلس شوری کبھی بھی کوئی فیصلہ نہیں کرتی اور یہ ایک ایسا امر ہے جسے متواتر بار بار ظاہر کیا گیا ہے اور بارہا بتایا جا چکا ہے کہ مجلس شوریٰ کوئی فیصلہ نہیں کرتی بلکہ مجلس شوری خلیفہ وقت کے مطالبہ پر اپنا مشورہ پیش کرتی ہے۔پس مجلس شوریٰ مشورہ نہیں دیتی بلکہ قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق کہ شاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ تُو لوگوں سے مشورہ لے، خلیفہ وقت لوگوں سے اُن کا مشورہ مانگتا ہے اس پر لوگ اسے مشورہ دیتے ہیں۔اور اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خلیفہ وقت فیصلہ کرتا ہے کہ کونسی بات ہونی چاہئے اور کونسی نہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ مجلس شوری خود بخود کوئی فیصلہ کر دیتی ہو۔پس جب یہ سوال ہو کہ کیا ہم صدر انجمن احمدیہ کے کسی قاعدہ میں ترمیم کر سکتے ہیں اور ہم سے مراد یہ لی جائے کہ کیا شوری کو یہ طاقت حاصل ہے یا نہیں؟ تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ شوری صدر انجمن کے مقابل میں ایک الگ اور مستقل نظام ہے جس کا اثر ایک دوسرے پر رد عمل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور جو کسی اور واسطہ سے آزاد ہو کر مختلف امور کا فیصلہ کرتی ہے اور یہ خیال ایسا ہے جو بالبداہت باطل ہے۔اس لئے کہ ”ہم“ کا کوئی وجود ہی نہیں جو براہ راست عمل کرے یا کسی رد عمل کا موجب بنے۔اور اگر ہم سے مراد شوری لے لی جائے اور شوری کا انعقاد بصدارت خلیفہ وقت ہوتا ہے اور شوری تبھی کوئی مشورہ دیتی ہے جب اُس سے خلیفہ وقت کی طرف سے مشورہ مانگا جائے اِس لئے اس صورت میں ان الفاظ کے یہ معنے بن جائیں گے کہ کیا خلیفہ وقت یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ صدر انجمن احمدیہ کے کسی قاعدہ میں ترمیم کرے؟ اور یہ بات پیش کرنا بھی بالکل غلط ہے۔غرض اس سوال کے دونوں پہلو غلط ہیں۔نہ یہ درست ہے کہ مجلس شوری کوئی آزاد اور مستقل مجلس ہے جو صدر انجمن احمدیہ کے مقابل میں عمل یا رد عمل کرتی ہے۔مجلس شوری ایسی کوئی مستقل چیز نہیں۔