خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 624
۶۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء خطابات شوری جلد دوم نے کہہ دیا کہ میری وصیت کا روپیہ مجھے واپس کیا جائے حالانکہ جب وہ اقرار کر رہا تھا کہ میں سلسلہ سے روگردان نہیں تو اُس کا یہ مطالبہ اپنے اندر کوئی معنے نہیں رکھتا تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ روپیہ ایسے شخص کو ہی واپس کیا جائے گا جو یا تو ضعف ایمان کی وجہ سے اپنی وصیت کا انکار کر دے یا سلسلہ سے روگردان ہونے کا دعوی کرے۔جو شخص سلسلہ سے روگردان ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ نظام سلسلہ اُسے علیحدہ کرتا ہے وہ اس شق کے ماتحت روپیہ کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا حقدار نہیں ہے۔مولوی عمر دین شملوی کے متعلق بھی ہمیں دیر سے اطلاعات مل رہی تھیں کہ ان کے رادھا سوامیوں اور بہائیوں وغیرہ سے تعلقات ہیں مگر بظاہر وہ ہماری جماعت کے اندر شامل تھے۔پس اس تشریح کے ماتحت ایک طرف تو نظام جماعت سے الگ کئے جانے والے وصیتی مال کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکیں گے اور دوسری طرف وہ لوگ جو دل میں سلسلہ سے روگردان ہوں مگر منافقانہ طور پر ہمارے اندر شامل ہوں خود بخود روپیہ کے لالچ میں اپنی روگردانی کا دعوی کر دیں گے اور بجائے اِس کے کہ انہیں ہم نکالیں وہ خود ہمارے سلسلہ سے نکل جائیں گے۔پس اس قاعدہ کو میں في انحال جاری کرتا ہوں بعد میں اس پر مزید غور بھی ہوسکتا ہے۔“ بہت ۴۲ - ۱۹۴۳ء کے متعلق تقریر بجٹ کے بارہ میں کئی ممبران کے اظہارِ خیال ہوئے فرمایا : - کے بعد حضور نے احباب سے خطاب کرتے جن دوستوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرنا تھا کر لیا ہے ان میں سے ایک دوامر ایسے ہیں جن کے متعلق میں اس وقت کچھ کہنا ضروری سمجھتا ہوں۔ریویو آف ریلیجنز کی امداد بند کرنے کی وجہ بجٹ پر رائے ظاہر کرتے ہوئے عزیزم پیر صلاح الدین نے اعتراض کیا ہے کہ ریویو آف ریلیجنز اُردو کو جو امداد دی جاتی تھی وہ کیوں بند کر دی گئی ہے جبکہ رسالہ عمدگی سے شائع ہو رہا ہے اُن کے نزدیک ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔خود ایڈیٹر صاحب کی بھی اس بارہ میں میرے پاس چٹھی پہنچی ہے۔اگر یہ بات صرف اس حد تک محدود ہوتی